ابن مریم

by Other Authors

Page 14 of 270

ابن مریم — Page 14

سلام کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے سے پہلی امتوں کی دست بدست اور قدم بقدم پیروی کرو گے۔یہاں تک کہ اگر وہ سوسمار کی بل میں داخل ہوئے تھے تو تم بھی ضرور داخل ہو گے۔ہم نے پوچھا۔یا رسول اللہ ! یعنی یہود و نصاری ؟ آپ نے فرمایا۔تو اور کون ؟ - - اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یہود سے مشابہت دی ہے اور اس میں ان خرابیوں کا داخل ہو جانا بیان فرمایا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے وقت یہود میں تھیں۔تو اسی مناسبت کے لحاظ سے یہ بھی اطلاع دی کہ تمہاری اصلاح کے لئے تمہیں میں سے بھیجا جائے گا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس امت کا ایک حصہ اگر اپنے اندر یہ مادہ رکھتا ہے کہ ان وحشی طبع یہودیوں کا نمونہ بن جائے جو حضرت مسیح کے وقت میں تھے تو اس میں وہ لوگ بھی ہیں جو مسیح بن جائیں گے۔گویا جس وقت بعض لوگ یہودی بنیں گے تو اس وقت بعض مسیحی نفس لے کر آئیں گے تا معلوم ہو کہ اس امت میں جس طرح ادنی اور نفسانی آدمی پیدا ہوں گے جو یہود کے تیل ہوں گے بعینہ اس میں وہ لوگ بھی ہوں گے جن کو ان کے کمالات روحانیہ کے باعث عیسیٰ بن مریم کہہ سکتے ہیں۔۔۔گویا دونوں قسم کی استعدادیں اس امت میں موجود ہیں امتِ احمد نہاں دارد دو ضد را در وجود می تواند شد مسیحا می تواند شد یهود پس یہ استعارہ کی زبان ہے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ” " استعارہ نہ مانا جائے لیکن کی صفات مثلاً " قاتل خنزیر “ اور ” کا سر صلیب " وغیرہ کو استعارہ پر حمل کیا جائے۔انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ صفت اور موصوف کو ایک ہی میزان میں رکھا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اگر ابن صیاد نامی ایک شخص کو دجال کہا