ابن مریم — Page 12
اگر زمانہ کے لحاظ سے دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ جو فوت شدہ ہے وہ وفات یافتہ انبیاء کے ہمراہ دکھایا گیا ہے۔اور جو آنے والا ہے وہ آنے والے فتنہ اور مصیبت کے ساتھ ساتھ ہے یعنی مسیح موعود جس کا ایک کام قتل دنبال بھی ہے پس ان اگر کام کی نوعیت ملاحظہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السّلام شریعتِ موسویہ کی اتباع اور تائید کے لئے تھے اور مسیح موعود کا کام احیائے دین مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ، پاسبانی خانہ خدا اور قتل دجال ہے۔دونوں حدیثوں سے اوہام کے بادل چھٹ جاتے ہیں اور حقیقت حال اظہر من الشمس ہو جاتی ہے۔اگر احادیث میں یہ الفاظ ہوتے کہ مسیح جو وفات پاچکے ہیں۔جن پر انجیل نازل ہوئی تھی۔وہی زندہ ہو کر آخری زمانہ میں آجائیں گے تو پھر تاویل کی گنجائش نہ ہوتی۔مگر اب تاویل نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے۔اور چونکہ بحکم 1 رنگم چو گندم است و بمو فرق بین است ز انسان که آمد است در اخبار سرورم این مقدمم نہ جائے شکوک ست و التباس سید جدا کند مسیحائے احمرم ترجمہ : میں موعود ہوں اور میرا حلیہ حدیثوں کے مطابق ہے۔افسوس ہے اگر آنکھیں کھول کر مجھے نہ دیکھے۔میرا رنگ گندمی ہے اور بالوں میں نمایاں فرق ہے جیسا کہ میرے آقا کی احادیث میں وارد ہے۔میرے آنے میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔میرا آقا مجھے سرخ رنگ والے مسیح سے علیحدہ کر رہا ہے۔