ابن مریم — Page 224
۲۲۸ رکھ۔چنانچہ اگر بچہ ہو تو شیطان اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا اور نہ وہ اس پر۔غالب آ سکتا ہے۔دوسری وہ عورتیں ہیں جن کے حالات اکثر گندے اور نا پاک رہتے ہیں۔ان کی اولاد میں شیطان اپنا حصہ ڈالتا ہے۔جیسا کہ آیت وَشَارِكَهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔شیطان کو یہ خطاب ہے کہ ان کے اموال اور اولاد میں حصہ دار بن جا۔عمومی طور پر ہر زمانہ میں ایسی عورتیں موجود ہوتی اور ایسے بچے بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔چنانچہ قران کریم نے متعدد جگہ مثالیں دے کر یہ واضح کیا ہے کہ اس عالم میں ایک کے بعد دوسرا دور آتا ہے۔اور نیکوں اور بدوں کی جماعتیں ہمیشہ۔بروزی طور پر دنیا میں آتی رہتی ہیں۔مریم اور اس کا بیٹا قرآن کریم بوجه مماثلت ، مومنین کا نام مریم اور بعد ازاں قرار دیتا ہے۔ابتداء سے اب تک امت محمدیہ میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔یعنی صفاتی مشابہت کی وجہ سے بعض لوگ گذشتہ بزرگوں کے نام سے موسوم ہو سکتے ہیں۔یہ اشتراک اسمی محض صفاتی تشارک پر مبنی ہوتا ہے۔بلکہ خصوصیت سے یہ تصریح موجود ہے کہ مسلمانوں میں بعض لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق مریم ہیں اور بعض۔چنانچہ بخاری شریف کی مشہور حدیث ہے «ما من مولود يولَدُ إلا والشيطان يمسه۔الا مریم وابنها»۔(بخاري، كتاب بدء الخلق، باب اذكر في الكتاب مريم)۔کہ ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے شیطان اس کو پیدائش کے وقت مست کرتا ہے سوائے ابن