ابن مریم — Page 214
۲۱۷ نور محمد نقشبندی چشتی ، مالک اصبح المطابع دہلی اپنے شائع کردہ قرآن کریم کے دیباچہ میں صفحہ ۳۰ پر لکھتے ہیں۔"۔۔۔۔۔۔اسی زمانہ میں پادری لیفرائے پادریوں کی ایک بہت بڑی جماعت لے کر اور حلف اٹھا کر ولایت سے چلا کہ تھوڑے عرصہ میں تمام ہندوستان کو عیسائی بنالوں گا۔ولایت کے انگریزوں سے روپیہ کی بہت بڑی مدد اور آئندہ کی مدد کے مسلسل وعدوں کا اقرار لے کر ہندوستان میں داخل ہو کر بڑا تلاطم برپا کیا۔۔۔۔۔۔حضرت عیسی کے آسمان پر حجم خاکی زندہ ہونے اور دوسرے انبیاء کے زمین میں مدفون ہونے کا حملہ عوام کے لئے اس کے خیال میں کارگر ہوا۔تب مولوی غلام احمد قادیانی کھڑے ہو گئے اور اس کی جماعت سے کہا کہ عیسیٰ جس کا تم نام لیتے ہو دوسرے انسانوں کی طرح سے فوت ہو کر دفن ہو چکے ہیں اور جس عیسی کے آنے کی خبر ہے وہ میں ہوں۔پس اگر تم سعادت مند ہو تو مجھ کو قبول کر لو۔اس ترکیب سے اس نے لیفرائے کو اتنا تنگ کیا کہ اس کو پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا اور اس ترکیب سے اس نے ہندوستان سے لے کر ولایت تک کے پادریوں کو شکست دے دی۔“ جب مسیحی ہر پہلو سے عاجز اور لاجواب ہو گئے تو پادری فنی مسیح ، عیسائی احمد شاہ ، پادری عماد الدین اور اسی قماش کے بعض اور پادریوں نے وہ راہ اختیار کی جو ہر شریف النفس انسان کے لئے دل آزاری کے کانٹوں سے آئی ہوئی تھی۔انہوں نے اپنے زعم میں مسلمانوں کو خاموش کرانے یا بالفاظ دیگر زخمی کرنے کے لئے یہ حربہ اختیار کیا کہ اسلام ، بانی اسلام امام الصادقین سید الاصفیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور امہات المومنین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارہ میں زہر