ابن مریم

by Other Authors

Page 215 of 270

ابن مریم — Page 215

۲۱۸ آشام تحریر میں شائع کیں ، مگر میل مسیح علیہ السلام نے ان سیاہ باطن بد زبانوں کو انہیں کے مسلمات سے ہی ایسی راہ دکھائی کہ اس خار زار سے برہنہ پا گذرنا خود انہیں کا نصیب ٹھہرا۔حضرت مرزا صاحب کی کتاب ” نور القرآن اور کتاب البریہ وغیرہ اس کی شاہد ہیں۔آپ نے مسیحیوں کی اصلاح کے لئے کثرت سے اشتہار دئے اور بار بار پادریوں کو دعوت دی کہ وہ عقائد پر بحث کریں تاکہ حق کھل کر سامنے آجائے مگر عیسائیوں کی طرف سے ہمیشہ ہی لاچاری کا اظہار اور اس دعوت سے فرار کا رویہ ظاہر ہوا جو اس امر کی دلیل ہے کہ مسیحیت کے موجودہ عقائد وہ نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو دیئے تھے۔کیونکہ مسیح علیہ السلام صداقت کے علمبردار تھے اور صداقت کبھی شکست خوردہ نہیں ہو سکتی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ منادی کی کہ وہ صداقت جو مسیح علیہ السلام نے کر آئے تھے اس کے آثار میرے وجود میں ملاحظہ کرو اور ان سے حصہ پاؤ۔پس یہ وہ کام تھا جس کے لئے آنے والے موعود کو مسیح اور کا نام دیا گیا اور اس کی صفات سے متصف کیا گیا تا وہ مسیحیوں کے سامنے اسی منیحیت کی جلوہ گری کرے جس کے ساتھ مسیح علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔آپ فرماتے ہیں : آپ نے فرمایا چوں مرا نور از پئے قوم مسیحی داده اند مصلحت را نام من بنهاده اند سنت اللہ کے موافق یہ عاجز صلیبی شوکت کو توڑنے کے لئے مامور ہے یعنی خدا تعالی کی طرف سے اس خدمت پر مقرر کیا گیا ہے جو کچھ عیسائی پادریوں نے کفارہ اور تثلیث کے باطل مسائل کو دنیا میں