ابن مریم — Page 213
۲۱۶ نے عین بیداری میں جو کشفی بیداری کہلاتی ہے۔یسوع مسیح سے کئی دفعہ ملاقات کی ہے اور اس سے باتیں کر کے اس کے دعوے اور تعلیم کا حال دریافت کیا ہے۔یہ ایک بڑی بات ہے۔جو توجہ کے لائق ہے۔کہ حضرت یسوع مسیح ان چند عقائد سے جو کفارہ اور تثلیث اور امنیت ہے ایسے متنفر پائے جاتے ہیں کہ گویا ایک بھاری افتراء ان پر کیا گیا ہے۔وہ یہی ہے۔یہ مکاشفہ کی شہادت بے دلیل نہیں ہے۔بلکہ یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی طالب حق نیت کی صفائی سے ایک مدت تک میرے پاس رہے۔اور وہ حضرت مسیح کو کشفی حالت میں دیکھنا چاہے تو میری توجہ اور دعا کی برکت سے وہ ان کو دیکھ سکتا ہے۔ان سے باتیں بھی کر سکتا ہے اور ان کی نسبت ان سے گواہی بھی نے سکتا ہے۔کیونکہ میں وہ شخص ہوں جس کی روح میں بروز کے طور پر مسیح کی روح سکونت رکھتی ہے۔( تحفہ قیصریہ۔روحانی خزائن۔جلد ۱۲ صفحه ۲۷۲، ۲۷۳) اس دعوت کو بھی کسی نے قبول نہ کیا اور کسی نے یہ گوارا نہ کیا کہ تثلیث ، کفارہ اور ابنیت مسیح وغیرہ عقائد سے حضرت مسیح کی بیزاری خود مشاہدہ کر لے۔البتہ بحث و تمحیص اور مناظرہ کے لئے پادری عبد اللہ آتھم ای۔اے۔سی وغیرہ کمر بستہ ہوئے مگر ایمان کی ان نشانیوں کا ثبوت پیش کرنا تو در کنار ، جو موجودہ اناجیل ایک بچے مسیحی کے لئے امتیاز کے طور بیان کرتی ہیں ، وہ اپنے دعووں کو ہی عقلی یا نقلی دلائل سے ثابت کرنے سے قاصر رہے۔پادری عبداللہ آتھم کے ساتھ آپ کا یہ مناظرہ کتاب ” جنگ مقدس کی صورت میں شائع شدہ ہے۔پادریوں کی مسلسل شکست کے ضمن میں پادری بشپ جارج ایلفرڈ لیفرائے ( ۱۸۵۴ ۶ ، ۱۹۱۹ء ) کا ذکر یہاں غیر مناسب نہ ہو گا۔چنانچہ مشہور مورخ حافظ