ابن مریم

by Other Authors

Page 10 of 270

ابن مریم — Page 10

اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آنے والے مسیح کو اپنی امت میں سے قرار دینا اس کے روحانی نزول کی وضاحت کرتا ہے۔پھر دوسری حدیث جو اس بات کا فیصلہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ مسیح اول کا حلیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اور طرح کا بیان فرمایا اور منیح ثانی کا اور طرح کا۔اور پھر اس حلیہ میں ہی فرق نہیں کیا بلکہ یہ بھی بتا دیا کہ پہلا مسیح ، موسوی شریعت کا تابع ہے اور دوسرے مسیح کا واسطہ دجال کے ساتھ پڑے گا یعنی دجال کے قتل کے لئے آئے گا۔فرمایا (1) i عن ابن عمر رضى الله عنهما قال : قال النبي ﷺ : «رأيت عیسی و موسی و ابراهیم فأما الصدر۔۔۔۔۔۔فأحمر عیسی جعد عريض (بخارى كتاب بدأ الخلق) وہ کہ تمہیں معلوم ہے کہ فأقكم منکم کے کیا معنی ہیں ؟ میں نے کہا آپ ہی بتائیں تو انہوں نے کہا کہ مسیح تمہارے رب کی کتاب اور تمہارے نبی کی کتاب کے مطابق امامت کریں گے "۔پس اس سے معلوم ہوا کہ جو ہے وہی امام ہے اور امت مسلمہ میں سے ہے بعض یہ کہتے ہیں کہ امامکم سے مراد امام مہدی ہے۔اعتراض اس وجہ سے غلط ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسی اور مہدی کو ایک ہی وجود قرار دیا ہے۔یعنی ایک ہی وجود کی دو صفات کا ذکر کیا گیا ہے فرمایا کہ لا المهدى إلا عيسى ابن مريم۔ابن ماجة كتاب الفتن، باب شدة (الزمان) نہیں مہدی مگر عیسی۔اس کے علاوہ بھی کئی ایک مرتبہ اس امر کا اظہار فرمایا کہ مسیح اور مہدی ایک ہی وجود ہیں۔بعض احادیث میں یہ جو آیا ہے کہ امام مہدی امامت کرائیں گے اور عیسیٰ مقتدی ہوں گے۔اس کا صرف یہی۔ہے کہ صفت مہدویت صفت عیسویت سے مقدم اور بالا تر ہے۔محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض سے حاصل شدہ مقام ہر مرتبہ سے اعلیٰ و اولیٰ اور افضل ہے۔