ابن مریم — Page 9
مستند مجموعہ کے مخالف ہو تو ہم ایسی حدیث کو یا تو نصوص سے خارج کریں گے یا اس کی تاویل کریں گے۔کیونکہ یہ تو ممکن نہیں کہ ایک ضعیف اور شاذ حدیث کے بدلے ایک یقینی اور مستند مجموعہ احادیث کو رد کر دیا جائے۔بلکہ ایسی حدیث اس کے معارض ہو کر قابل رو ہو گی یا قابل تاویل ٹھہرے گی۔ایسی صورت میں خبر واحد صرف ظن کا فائدہ دیتی ہے ، وہ یقینی اور قطعی ثبوت کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی۔علاوہ ازیں حضرت امام بخاری نے اس بارہ میں اشارہ تک نہیں کیا کہ یہ مسیج جو آنے والا ہے در حقیقت اور سچ سچ وہی پہلا مسیح ہو گا۔بلکہ انہوں نے دو حدیثیں ایسی لکھی ہیں جو یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ مسیح موسوی اور تھا اور مسیح محمدی اور ہے۔فرمایا تم میں آئے گا اور پھر وضاحت کر دی تاکہ شک و شبہ کی تمام تاریکیاں دور ہو جائیں کہ " و إمامكم منكم " وہ تمہارا امام ہو گا جو تم میں سے ہی ہو پس یہ الفاظ قابل توجہ ہیں کہ وہ تمہارا امام تم میں سے ہی ہو گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وہم کو دور کرنے کے لئے جو کے لفظ سے پیدا ہو سکتا تھا مابعد کے لفظوں میں بطور تشریح فرمایا کہ اس کو سچ سچ وہی ابن مریم نہ سمجھ لینا جو ( رَسُولًا إِلَى بَنِي اسراءيل ) بنی اسرائیل کے لئے رسول تھا بلکہ وہ ( إمامكم منكم ) ( تمہارا امام تم میں سے ہی ہو گا۔باہر سے نہیں آئے گا۔گا۔و إمامكم منكم میں واؤ حالیہ ہے یعنی عیسی بن مریم کا نزول ہو گا اس حالت میں کہ وہ تمہارا امام تم میں سے ہی ہو گا۔بعض یہ جو کہتے ہیں کہ حدیث میں بیان کردہ سے مراد اور وجود ہے اور امامکم سے مراد اور۔اور تو اس کا جواب یہ ہے کہ مسلم کتاب الایمان میں ہے فأمكم منکم کہ وہ تمہارا تم میں۔ہی امامت کرانے والا ہو گا اور پھر آگے ساتھ ہی تشریح کر دی کہ "ابن ابی ذئب نے