ابن مریم

by Other Authors

Page 170 of 270

ابن مریم — Page 170

بیماریوں کو صاف کیا گیا ہو۔(تذکرہ - صفحہ ۱۸۲) اسی طرح جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کو صفت احیائے موتی عطا ہوئی ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی خدا تعالی نے اس صفت میں آپ کا متیل بنایا۔یہ عام محاورہ ہے کہ جب کوئی مرض الموت یا شدید بیماری سے نجات حاصل کر لیتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے نئی زندگی پائی ہے۔خدا تعالیٰ کے مقربین اور اس کے انبیاء کو یہ امتیازی نشان عطا ہوتا ہے کہ جب کوئی ایسا مریض جو دنیا کے حکیموں ، طبیبوں یا ڈاکٹروں کی طرف سے لاعلاج قرار دے دیا گیا ہو ، ان کی دعا اور خاص توجہ سے صحت یاب ہونے لگتا ہے۔ان کی دعا اور توجہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کو کھینچ لاتی ہے اور وہ مریض جو اس دنیا سے منہ موڑ کر موت کی طرف سفر اختیار کر چکا ہوتا ہے ، واپس چلا آتا ہے۔انبیاء علیہم السلام کو یہ وصف خدا تعالیٰ کے اذن سے ایک اعجاز کے طور پر عطا ہوتا ہے۔اسے قوت احیائے موتی خاص بھی قرار دیا جاتا ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کو بھی یہ قوت عطا ہوئی۔اور قرآن کریم میں اس کا ذکر ہے کہ وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَى بِإِذْنِي سورة المائدة اس سے مراد محض یہی ہے کہ آپ نے بعض ایسے مریضوں کا علاج کیا کہ جو بر لب گور تھے۔اس لحاظ سے آپ کا خاص طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کا واسطہ ان لوگوں سے پڑا تھا جو انبیاء کے کفر و قتل کے مجرم چلے آتے تھے اور باوجود نشان اور معجزات دیکھنے کے انکار پر مصر رہتے تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر آفاقی کی بجائے کثرت سے انفیسی نشان ظاہر فرماتے۔تاکہ وہ لوگ