ابن مریم — Page 171
۱۷۳ اپنے نفسوں میں ان نشانات کو ملاحظہ کر کے ایمان حاصل کر سکیں۔اس کے علاوہ ایک حکمت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے نفسوں میں ایسے نشان ملاحظہ کرتے جو محض احسان کا پہلو اپنے اندر رکھتے تھے اور جن کی وجہ سے ان کی نگاہیں آپ کو ہمیشہ عقیدت سے دیکھتیں اور ان کے دل زیر بار احسان آکر آپ کی محبت سے معمور ہو جاتے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی صداقت کے ثبوت کے لئے قرآن کریم میں ان معجزات کی گواہی دی۔کیونکہ آپ کے نشانات اور معجزات کی زمانہ کے لوگوں نے خصوصیت سے تکفیر و تکذیب کی تھی۔اس کے علاوہ احیائے موتی کا اعلیٰ اور ارفع نمونہ وہ ہے جو ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں قرآن کریم نے بیان فرمایا کہ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحييكُم سورة الأنفال کہ یہ رسول تمہیں اپنی طرف بلاتا ہے کہ تمہیں زندگی عطا کرے۔پس اس آیت کریمہ سے پتہ چلتا ہے کہ روحانی زندگی ہی اصل زندگی ہے۔اور یہ قوتتِ احیاء حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے بڑھ کر اور اعلیٰ اور اکمل طور پر عطا ہوئی کہ صدیوں کے مردے زندہ کر دئے۔آپ کے ظل کے طور پر اس کا ایک حصہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی عطا ہوا۔آپ فرماتے ہیں: أعطيت صفة الإفناء والاحياء۔(خطبة) إلهامية، روحاني خزائن جلد ١٦ ص ٥٦)۔کہ مجھے صفت فنا و احیاء عطا کی گئی ہے۔آپ نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض حاصل کر کے ایک عالم کو نئی زندگی عطا کی۔پس در اصل قوتِ احیاء ، خواہ جسمانی ہو یا روحانی ، کا اصل حامل تو وہ ہے جس