ابن مریم — Page 156
۱۵۸۔ڈی۔ایس۔پی سے کہا کہ وہ اس کو اپنی ذمہ داری میں لے کر آزادانہ طور سے پوچھیں۔چنانچہ ۱۴ اگست کو ڈی۔ایس پی نے محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ اور انسپکٹر جلال الدین کے سپرد کیا۔انسپکٹر جلال الدین نے کچھ دیر کے بعد ڈی۔ایس۔پی کو اطلاع دی کہ وہ لڑکا اپنے سابقہ بیان پر قائم ہے اور مقدمہ کی بابت کچھ اصلیت ظاہر نہیں کرتا۔تب بیمار چنڈ نے کہا کہ اس کو میرے روبرو حاضر کرو۔جب وہ آیا تو اس نے پہلی کہانی بیان کی یعنی مرزا صاحب نے اس کو ڈاکٹر کلارک کے قتل کے کے لئے امرتسر بھجوایا ہے۔لیمار چنڈ اپنے بیان میں کہتے ہیں۔ہم نے دو شفے لکھے اور پھر اس سے کہا کہ ہم اصلیت دریافت کرنا چاہتے ہیں۔ناحق وقت کیوں ضائع کرتے ہو۔" اس پر عبدالحمید ان کے پاوں پر گر پڑا اور زار زار رونے لگا۔تب اس نے اصل بیان دیا۔عبد الحمید نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ” میں نے پہلا بیان مارے خوف اور ترغیب کے لکھ دیا تھا۔" اور اس نے اقرار کیا کہ ”وارث دین ، بھگت پریم داس اور ایک اور عیسائی بوڑھا مجھے سکھلاتے رہے ہیں۔ڈاکٹر کلارک کے زیر اثر پادریوں نے اسے ایسی ترغیب و ترہیب کی تھی کہ کوئی خیال بھی نہ کر سکتا تھا کہ وہ ان کا سکھلایا اپنا تحریری و زبانی دیا ہوا بیان بدل دے چنانچہ پادری عبدالغنی نے اسے جیسا کہ ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے اپنے بیان میں ظاہر کیا ہے اس سے یہ کہا تھا کہ پہلے بیان کے مطابق بیان لکھوانا ورنہ قید ہو جاو گے۔"