ابن مریم

by Other Authors

Page 157 of 270

ابن مریم — Page 157

۱۵۹ لیکن باوجود اس ترغیب و ترہیب اور احتیاطوں کے جو پادریوں کے گروہ نے عبدالحمید کو اپنے پہلے جھوٹے بیان پر قائم رکھنے کے لئے اختیار کیں ، اس کا اصل حقیقت کے اظہار پر قائم رہنا اور تبدیلی بیان کے نتیجہ میں قید وغیرہ کی سزا سے نہ ڈرنا یہ محض خدائی تصرف تھا۔اور اس طرح پادریوں کا مکر ایسا طشت از بام ہوا کہ کہ گویا اللہ تعالی نے ان کا دجل عریاں کر کے رکھ دیا۔اور پادری گرے نے چٹھی کے ذریعہ یہ بیان دیا کہ عبد الحمید پہلے میرے پاس عیسائی ہونے کے لئے آیا تھا۔چونکہ وہ نکما اور مفتری تھا اور سچا متلاشی معلوم نہ ہوا تو میں نے اسے پادری نور الدین کے پاس واپس بھیج دیا۔جس سے ظاہر ہو گیا کہ وہ در حقیقت ڈاکٹر کلارک کے قتل کے لئے نہیں بھیجا گیا تھا ورنہ وہ سیدھا اس کے پاس جاتا۔ڈاکٹر کلارک مستغیث نے اپنے بیان کو کہ عبدالحمید اس کے قتل کے لئے بھیجا گیا تھا سچا ثابت کرنے کے لئے لیکھرام کے قتل کے واقعہ کو بطور تائید پیش کیا تھا مباحثہ کے بعد (مرزا صاحب) نے ان تمام کی موت کی پیش گوئی کی تھی جنہوں نے اس مباحثہ میں حصہ لیا تھا۔میرا اس مباحثہ میں بھاری حصہ تھا۔اس مباحثہ کے بعد خاص دلچسپی کا مرکز مسٹر عبداللہ آتھم رہا۔چار الگ کوششیں اس کی جان لینے کے لئے کی گئیں اور یہ کوششیں عام طور پر مرزا صاحب کی طرف منسوب کی گئی ہیں۔اس کی موت کے بعد میں ہی پیش نظر رہا ہوں۔اور کئی ایک مبہم طریقوں سے یہ پیش گوئی مرزا صاحب کی تصنیفات میں مجھے یاد دلائی گئی ہے۔جس کے لئے سب سے بڑی وہ کوشش تھی جس کو عبد الحمید نے بیان کیا۔لاہور میں لیکھرام کی موت کے بعد جس کو تمام لوگ مرزا