ابن مریم — Page 155
۱۵۷ کیوں نہ لی جائیں ؟ ادھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تائید میں خدا تعالی کی طرف سے یہ غیبی فعل ظاہر ہوا کہ یہ جاری شدہ وارنٹ سات اگست تک گورداسپور نہ پہنچ سکا اور کچھ پتہ نہ چلا کہ کہاں چلا گیا ہے۔اسی اثناء میں مجسٹریٹ ضلع امرتسر کو جب یہ معلوم ہوا کہ وہ غیر ضلع کے ملزم پر وارنٹ جاری کرنے کے قانوناً مجاز نہیں تو انہوں نے مجسٹریٹ ضلع گورداسپور کو بذریعہ تار وارنٹ روکنے کا حکم بھیجا۔اور وہ وارنٹ نہ ملنے کی وجہ سے حیران ہوئے۔اور جب رسل منتقل ہو کر گورداسپور آئی تو صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے باوجود ڈاکٹر کلارک اور اس کے وکیل کے سخت اصرار کے وارنٹ جاری کرنے کے سمن جاری کر دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ۱۰ اگست کو بمقام بٹالہ خود یا بذریعہ مختار حاضر ہونے کا حکم دیا۔اس مقدمہ کو کامیاب بنانے کے لئے آریوں نے بھی عیسائیوں کی پوری پوری بدد کی تا لیکھرام کے قتل کا بدلہ لیں۔چنانچہ پنڈت رام بھجرت آریہ وکیل بغیر فیس لئے مقدمہ کی پیروی کرتا رہا۔اور ڈاکٹر کلارک نے اپنے بیان میں تسلیم کیا کہ ہم لوگ ایک شخص کے بارے میں جو سب کا دشمن ہے مل کر کاروائی کرتے ہیں۔مسلمانوں میں سے مولوی محمد حسین بٹالوی نے عیسائیوں کی تائید میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف شہادت دی اور جھوٹی شہادت کی وجہ سے سخت ذلت اٹھائی۔صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کیپٹن ایم۔ڈبلیو ڈگلس نے ۱۰ اگست ۱۸۹۷ کو تحقیقات شروع کی جو ۱۳ اگست تک جاری رہی۔عبد الحمید اس وقت تک بالکل عیسائیوں کی نگرانی میں رہا۔اس کی شہادت نے عموما ڈاکٹر کلارک کے بیان کی تائید کی لیکن اس کے بیان کے غیر تسلی بخش ہونے کی بناء پر کیپٹن ڈگلس نے مسٹر لیمار چنڈ