ابن مریم — Page 212
۲۱۵ یہ کہا کہ جو اس دعوے کی صداقت میں ذرہ بھر بھی شبہ رکھتا ہے وہ اگر طالب حق بن کر ایک سال تک میرے پاس قادیان میں آکر قیام کرے گا تو ضرور کوئی نہ کوئی الہی نشان دیکھ لے گا۔نیز یہ کہ اگر اس عرصہ میں کوئی الہی نشان ظاہر نہ ہو تو میں بطریق تر جانه یا جرمانہ دو سوروپیہ ماہوار کے حساب سے مبلغ چوبیس سو روپیہ نقد اس شخص کو دوں گا۔وہ جس طرح چاہے اپنی تسلی کر لے۔جہاں دیگر مذاہب کے پیرو کار اس دعوت کو قبول کرنے سے گریز کرتے رہے وہاں عیسائیوں نے بھی اس طرف رخ نہ کیا۔حالانکہ یہ طریق فیصلہ انتہائی منصفانہ اور بچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز پیدا کر دینے والا تھا۔پادری صاحبان میں سے کوئی ایک سال کے لئے قادیان میں آکر حضرت مرزا صاحب کے پاس الہی نشان کا طلبگار ہو جاتا اور تعصب کو خیر باد کہتے ہوئے حق کا متلاشی ہوتا تو خدا تعالیٰ اسے ضرور حضرت مرزا صاحب کی ذات میں مسیحیت کا جلوہ دکھا دیتا اور کوئی خارق عادت نشان ظاہر کر دیتا اور نہ آپ کی شکست اور پادریوں کی فتح کو دنیا نظارہ کر لیتی۔آپ نے عیسائیوں کے لئے مسیح ہونے کے ثبوت کے لئے اپنے ایک مکاشفہ کی شہادت بھی پیش کی اور فرمایا اس نے مجھے اس بات پر اطلاع دی ہے کہ در حقیقت یسوع مسیح خدا کے نہایت پیارے اور نیک بندوں میں سے ہے۔اور ان میں سے ہے جو خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں۔اور ان میں سے ہے جن کو خدا اپنے ہاتھ سے صاف کرتا۔اور اپنے نور کے سایہ کے نیچے رکھتا ہے۔لیکن جیسا کہ گمان کیا گیا ہے خدا نہیں ہے۔ہاں خدا سے واصل ہے اور ان کاملوں میں سے ہے جو تھوڑے ہیں۔اور خدا کی جیب باتوں میں سے جو مجھے ملی ہیں ایک یہ بھی ہے جو میں