ابنِ سلطانُ القلم — Page 155
سنگھ ابن سلطان القلم ~ 155 - ~ جلاہا تھا سخت زکام ہو گیا۔داد صاحب نے اس کو ایک نسخہ لکھ دیا اور وہ اچھا ہو گیا لیکن پھر یہی بیماری خود شیر سنگھ کو ہو گئی اور اس نے علاج کے لیے دادا صاحب سے کہا دادا صاحب نے ایک بڑا قیمتی نسخہ لکھا۔شیر سنگھ نے کہا کہ جولاہے کو دو ڈھائی پیسہ کا نسخہ اور مجھے اتنا قیمتی؟ دادا صاحب نے جواب دیا۔شیر اور جولاہا ایک نہیں ہو سکتے۔شیر سنگھ اس جواب سے بہت خوش ہوا اور اُس زمانہ کے دستور کے مطابق عزت افزائی کے لیے کڑوں کی ایک جوڑی پیش کی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ اس علاج کے بدلے میں نہ تھی بلکہ مشرقی رؤساء اور بادشاہوں کا یہ دستور رہا ہے کہ جب کسی بات پر خوش ہوتے ہیں تو ضرور کچھ چیز تقریب و انعام کے طور پر پیش کرتے ہیں۔شیر سنگھ نے بھی جب ایسا برجسته کلام سنا تو محظوظ ہو کر اس صورت میں اظہار خوشنودی کیا۔مگر (۳۱) بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش۔صاحب ایم اے کہ ایک دفعہ مرزا امام الدین صاحب نے دادا صاحب کے قتل کی سازش کی اور بھینی کے ایک سکھ سوچیت سنگھ کو اس کام کے لیے مقرر کیا۔سوچیت سنگھ کا بیان ہے کہ میں کئی دفعہ دیوان خانہ کی دیوار پر اس نیت سے چڑھا مگر ہر دفعہ مجھے مرزا صاحب یعنی دادا صاحب کے ساتھ دو آدمی محافظ نظر آئے اس لیے میں جرات نہ کر سکا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ کوئی تصرف الہی ہو گا۔