ابنِ سلطانُ القلم — Page 156
(۳۲) ~ ابن سلطان القلم ~ 156 بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ دادا صاحب حقہ بہت پیتے تھے مگر اُس میں بھی اپنی شان دکھاتے تھے۔یعنی جو لوگ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوں اُن کو اپنا حقہ دیتے تھے لیکن غریبوں اور چھوٹے آدمیوں سے کوئی روک نہ تھی۔(۳۳) نہیں بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش وو دو صاحب ایم اے کہ دادا صاحب کا تکیہ کلام “ ہے بات کہ نہیں ” تھا جو جلدی میں “ ہے با کہ نہیں " سمجھا جاتا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کے متعلق اور بھی کئی لوگوں سے سنا گیا ہے۔(۳۴) بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ ایک دفعہ قادیان میں ایک بغدادی مولوی آیا۔دادا صاحب نے اُس کی بڑی خاطر و مدارت کی۔اس مولوی نے دادا صاحب سے کہا کہ مرزا صاحب! آپ نماز نہیں پڑھتے؟ دادا صاحب نے اپنی کمزوری کا اعتراف کیا اور کہا کہ ہاں بے شک میری غلطی ہے۔مولوی صاحب نے پھر بار بار اصرار کے ساتھ کہا اور ہر دفعہ دادا صاحب یہی کہتے گئے کہ میرا قصور ہے۔آخر مولوی نے کہا آپ نماز نہیں پڑھتے۔اللہ آپ کو دوزخ میں ڈال