ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 211 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 211

ابن سلطان القلم ~ 211 - ~ بحث میں آپ اس اعلیٰ ہستی کے وجود سے انکار کرنے والوں کے دلائل کا رڈ بھی ساتھ ساتھ کرتے گئے ہیں۔مذہبیات میں آپ کی یہ چھوٹی سی کتاب اللہ تعالیٰ کے وجود اور کی ہستی کے اکاون (۵۱) دلائل پر مشتمل ہے۔نہایت سلیس پیرائے میں اور عام فہم طریق پر آپ نے اپنے قارئین کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ کون و مکان کو پیدا کرنے والی ایک ہستی ہے اور وہ سب سے برتر و اعلیٰ ہے۔اس کتاب میں ”لائے اور ہستی“ کے عنوان سے آپ لکھتے ہیں: ”انسان یہ بھی جانتا ہے کہ لائے محض سے کوئی حقیقی وجود پیدا نہیں ہو سکتا۔جیسا کہ لاشے محض دو قائموں کے برابر نہیں ہو سکتی۔یہ مان لیا گیا ہے کہ نیست سے ہست نہیں ہو سکتا۔جب ہم فرض کرتے ہیں کہ ایک نیست ہے تو اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرض کرنا پڑتا ہے کہ اس سے ہست نہیں ہو سکتا۔کیونکہ نیست نہ تو کوئی ہستی ہے اور نہ کوئی وجود اور نہ کوئی طاقت۔جو کچھ بھی نہیں وہ کیا طاقت اور ہستی رکھے گا اور اس کی قیمت کیا کچھ ہو گی۔جب ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ نیست سے ہست مشکل ہے تو پھر ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم اپنے ارد گرد ایک عالم ہست دیکھتے ہیں جس سے ہم انکار نہیں کر سکتے، تو ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ یا تو یہ عالم ہست خود بخود نیستی سے منتقل بہ ہست ہوا ہے اور یا یہ کہ اس کے سوا کوئی اور ہستی اس کی ہستی کا باعث ہوئی۔اگر یہ ہستیاں خود بخود ہی وجود پذیر ہوئی ہیں تو یہ درست نہیں کیونکہ نیست سے