ابنِ سلطانُ القلم — Page 212
ابن سلطان القلم ~ 212 ہست ہو نہیں سکتا۔اس صورت میں یہ ماننا پڑے گا کہ کوئی دوسرا ہست ان ہستیوں کا باعث ہے۔جو قدیم سے موجود ہے اور جس کی ہستی بجائے خود کوئی آغاز اور شروع نہیں رکھتی اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایسی ہستی قدامت تقدیس کے ساتھ ہی قوی تر ، بالا تر، قادر تر بھی ہو گی، کیونکہ جب تک وہ یہ صفات نہ رکھے تب تک وہ تسلیم نہیں کی جاسکتی۔“ کتنی عام فہم ہے یہ مثال اور کتنے اچھے رنگ میں پیش کی گئی ہے۔ساری کتاب ایسی ہی مثالوں سے پر ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ایسی تحریریں نہ صرف اردو زبان پر ایک احسان کا رنگ رکھتی ہیں بلکہ عمومی طور پر ان کو بنی نوع انسان پر بھی احسان کا درجہ دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اتنی عام فہم تحریروں سے بنی نوع انسان کو اپنے خالق کا پتہ دینا اور اس سے قریب سے قریب تر لانا اگر نوع انسان پر احسان نہیں تو اور کیا ہے؟' ۲- علوم القرآن: ۱۹۲۰ء میں الناظر پریس واقع بلدہ لکھنو سے شائع ہوئی۔اس کتاب کے ۳۱۷ صفحات ہیں۔۲۹ فروری ۱۹۲۰ء کی تالیف ہے، مگر پنجاب پبلک لائبریری لاہور میں موجود نسخہ ۱۹۸۵ء میں قادریہ بکس سنت نگر لاہور نے اردو آرٹ پر میں سے طبع کرا کے نشر کیا اور اس کے کل ۷ ۳۱ صفحات ہیں۔6-8-8009-969:ISBN ا روزنامه الفضل ۵/ اکتوبر ۱۹۹۳ء