ابنِ سلطانُ القلم — Page 153
ابن سلطان القلم ~ 153 ~ کسٹ صاحب کمشنر سے ملاقات کے لیے گئے۔باتوں باتوں میں اُس نے پوچھا کہ قادیان سے سری گوبند پور کتنی دور ہے؟ دادا صاحب کو یہ سوال ناگوار ہوا۔فورا بولے میں ہر کارہ نہیں اور سلام کہہ کر رخصت ہونا چاہا۔صاحب نے کہا مرزا صاحب آپ ناراض ہو گئے ؟ دادا صاحب نے کہا کہ ہم آپ سے اپنی باتیں کرنے آتے ہیں اور آپ ادھر اُدھر کی باتیں پوچھتے ہیں جو آپ نے مجھ سے پوچھا ہے وہ میرا کام نہیں ہے۔صاحب دادا صاحب کے اس جواب پر خوش ہوا۔(۲۸) بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ ایک دفعہ جب ڈیوس صاحب اس ضلع میں بندوبست تھا اور اُن کا عملہ بٹالہ میں کام کرتا تھا۔قادیان کا ایک پٹواری جو قوم کا برہمن تھا اور محکمہ بندوبست مذکور میں کام کرتا تھا۔تایا صاحب مرزا غلام قادر صاحب کے ساتھ گستاخانہ رنگ میں پیش آیا۔تایا صاحب نے وہیں اس کی مرمت کر دی۔ڈیوس صاحب کے پاس شکایت گئی۔اُس نے تایا صاحب پر ایک سو روپیہ جرمانہ کر دیا۔دادا صاحب اُس وقت امر تسر میں تھے اُن کو اطلاع ہوئی تو فورا ایجرٹن صاحب کے پاس چلے گئے اور حالات سے اطلاع دی۔اُس نے دادا صاحب کے بیان پر بلا طلب مسل جرمانہ معاف کر دیا۔