ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page xvii of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page xvii

نے زندگی میں ہر موقع پر حضرت مسیح موعود کے لیے بے مثال غیرت کا مظاہرہ کیا اور کسی کو آپ کے روبرو حضرت اقدس کے خلاف زبان درازی کی جرأت نہ ہو سکتی تھی۔محترم کرنل داؤد صاحب مرحوم نے خاکسار سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ گورنر پنجاب کی دعوت میں بشپ آف لاہور حضرت اقدس کے خلاف زبان درازی کرنے لگا تو آپ نے اسے ایسا کرنے سے منع کیا لیکن وہ باز نہ آیا، آپ نے پھر منع کیا۔جب تیسری دفعہ اس نے جسارت کی تو آپ نے کھانے سے بھری پلیٹ اس کے منہ پر دے ماری۔ہر ایسے موقع پر آپ ایک مخلص مومن کی طرح غیرت دکھاتے تھے اور کسی کو حضرت اقدس کے خلاف کوئی بات کرنے کی اجازت نہ دیتے تھے۔حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کی ادبی زندگی بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاثیر اور فیض سے ہرگز الگ نہیں کی جا سکتی۔بچپن میں آپ نے اپنے عظیم باپ سے تعلیم حاصل کی اور درسا کئی کتابیں پڑھیں۔اسی طرح آپ میں مطالعے کا شوق بھی یقیناً اپنے والد بزرگوار کو دیکھ کر ہی پیدا ہوا ہو گا۔جب حضرت اقدس نے قلمی جہاد کا آغاز فرمایا اس وقت حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب عنفوانِ شباب میں تھے، اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آپ میں انشا پردازی کی استعداد پیدا کرنے میں آپ کے والد بزرگوار کے افاضہ کا بنیادی کردار اور دخل ہے، جبھی تو آپ کی تحریر میں ایک حد تک اپنے والد بزرگوار کی تحریر کا رنگ پر تو نظر آتا ہے۔