ابنِ سلطانُ القلم — Page xvi
”میری عقیدت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ نہ صرف اس وقت سے ہے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیحیت کا دعویٰ کیا بلکہ ان ایام سے میں عقیدت رکھتا ہوں کہ جبکہ میری عمر بارہ تیرہ برس کی تھی۔میں اپنے والد صاحب مرحوم مرزا غلام احمد صاحب کو ایک سچا انسان اور پکا مسلمان الموسوم مسیح موعود سمجھتا ہوں اور ان کی حقانیت پر ایمان رکھتا ہوں اور میں اپنے آپ کو اس رنگ میں ایک احمدی سمجھتا ہوں۔میں نے کبھی اپنی زندگی میں ان کے دعاوی اور ان کی صداقت اور سچائی کی نسبت کوئی مخالفانہ حصہ نہیں لیا۔۔جب یہ حالت ہے تو مجھے کوئی یہ الزام نہیں دے سکتا کہ میں ان کا منکر تھا یا ہوں۔“ تحصیلداری کا امتحان ہو یا کسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کا یا ڈپٹی کمشنر کے عہدے کا معاملہ، ہر موقع پر اپنے بزرگ باپ کی خدمت میں دعا کی درخواست کرتے۔آپ کو حضرت مسیح موعود کی صداقت، بزرگی اور تقرب الی اللہ پر بچپن سے جو یقین تھا اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ای اے سی کے امتحان کے وقت لاہور میں جب دوسرے اُمیدواروں نے آپ کا مذاق اُڑایا تو آپ نے ان کو تحدسی کے ساتھ فرمایا کہ میں ضرور کامیاب ہو جاؤں گا۔اس یقین کی وجہ یہ تھی کہ اپنے والد بزرگوار کو دعا کی درخواست کر کے آئے تھے اور حضور نے دعا کرنے کا وعدہ بھی فرمایا تھا۔نیز یہ کہ آپ نے خواب میں دیکھا تھا کہ حضرت مسیح موعود نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو کرسی پر بٹھایا ہے، اس لیے آپ کو اپنی کامیابی کا یقین ہو گیا تھا۔پس آپ اپنے زمانہ طالب علمی میں بھی جانتے تھے کہ آپ کے والد ماجد کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم مقام ہے۔