ابنِ سلطانُ القلم — Page 108
ابن سلطان القلم ~ 108 ~ وفات کی خبر مختلف رسائل میں ہمہ گیر و همه رس انشا پرداز ہمہ : حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کا انتقال ادب اردو کے لیے بہت بڑا نقصان تھا جو ادبی حلقوں میں بہت محسوس کیا گیا۔مثلاً ”ادبی دنیا“ کے ایڈیٹر جناب احسان اللہ خاں تاجور نجیب آبادی (۱۸۹۴-۱۹۵۱ء) نے اپنے رسالہ میں آپ کی تصویر دے کر یہ نوٹ شائع کیا کہ دنیائے ادب اس ماہ اردو کے نامور بلند نظر اور فاضل ادیب خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب سے بھی محروم ہو گئی۔آپ نہایت قابل انشا پرداز تھے۔اردو کا کوئی حصہ ان کی رشحات قلم سے محروم نہ رہا ہو گا۔قانون و عدالت کی اہم مصروفیتوں کے باوجود بھی مضامین لکھنے کے لیے وقت نکال لیتے تھے۔بہت جلد مضمون لکھتے تھے۔عدالت میں ذرا سی فرصت ملی تو وہیں ایک مضمون لکھ کر کسی رسالہ کی فرمائش پوری کر دی۔اردو زبان کے بہت سے مضمون نگاروں نے ان کی طرز انشا کو سامنے رکھ کر لکھنا سیکھا۔افسوس کہ ایسا ہمہ گیر و ہمہ رس انشا پرداز موت کے ہاتھوں نے ہم سے چھین لیا۔مرزا صاحب مرحوم سیلف میڈ (خودساز) لوگوں میں سے تھے۔آپ نے پٹواری کی حیثیت سے ملازمت شروع کی اور ڈپٹی کمشنر تک ترقی کی۔آپ مرزا غلام احمد صاحب (مسیح موعود ) کے فرزند تھے۔۔۔اردو میں بیش قیمت