ابنِ سلطانُ القلم — Page 98
ابن سلطان القلم ~ 98 علیہ الصلوۃ والسلام) کو خوب جانتا ہوں، وہ بے شک اللہ تعالیٰ کے مرسل اور نبی ہیں مگر میری حالت ایسی نہیں کہ بیعت کو نبھا سکوں اور اس لیے میں ان کی 166 بیعت نہیں کرتا۔“ تمہارے تو دادا اور پیر بھی تھے“: حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب مزید بیان کرتے ہیں: ”جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وصال ہو گیا تو میں اپنے پہلے خسر کے گاؤں اعظم آباد میں تھا جو کہ کوٹ رادھا کشن ریلوے اسٹیشن کے پاس ہے۔میرے خُسر اس وقت لاہور گئے ہوئے تھے جب اُن کو حضور کی وفات کا علم ہوا تو مجھے اطلاع کرنے کے لیے گاؤں واپس تشریف لائے اور مجھے قادیان جانے کے لیے کہا۔اس کے بعد حضرت والد صاحب کی طرف سے بھی تار ملا مگر میں بیماری یا اپنی بدقسمتی کی وجہ سے وقت پر قادیان نہ پہنچ سکا۔اس کے کچھ عرصہ بعد جب میں قادیان گیا تو حضرت والد صاحب مجھے حویلی کے احاطہ میں ملے اور فرمایا کہ ”میرے تو والد فوت ہو گئے تھے۔تمہارے تو دادا اور پیر بھی تھے مگر تم وفات کے وقت نہیں آئے۔تمھیں شرم کرنی چاہیے تھی۔“ ا روزنامه ا امه الفضل ربوه ۲۲ اپریل ۱۹۷۳ء