ابن رشد

by Other Authors

Page 50 of 161

ابن رشد — Page 50

مخالف و موافق سب نے تسلیم کیا۔عورت کی امامت نے عورت کی امامت کے متعلق اختلافات پیش کرنے کے بعد لکھا ہے: و شذا ابو نورا والطبرى فاجازا اما منها على الاطلاق - ابو ثور اور طبری جمہور سے الگ ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ عورت علی الاطلاق امامت کر سکتی ہے عورتوں اور مردوں دونوں کی ہدایتہ المجتهد جلد اول صفحه 185)۔استحقاق قضاۃ اور حاکمیت کے بیان میں عورت کے قاضی اور حاکم ہونے کے متعلق اختلافات تحریر کرنے کے بعد این رشد نے تحریر کیا ہے: " قال الطبریي يجوز ان تكون المرآة حاكما على الاطلاق في كل عورت علی الاطلاق ہرشئے میں حاکم ہو سکتی ہے ( یعنی دیوانی اور فوجداری کی کوئی تخصیص نہیں) بلکہ وہ بادشاہ بھی ہو سکتی ہے"۔( بداية المجتهد جلد دوم صفحہ 277) کے محاکمہ کی مثال۔فقہاء میں ایک قابل ذکر اختلاف یہ ہے کہ ولی کے بغیر نکاح جائز ہے یا نہیں ؟ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی" کا مسلک یہ ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا۔حضرت امام ابو حنیفہ، امام زفر ، امام شعمی اور امام زہری کے نزدیک جب کوئی عورت اپنا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر کسی ایسے شخص سے کر لے جو اس کے معیار کے مطابق ہو تو جائز ہے۔داؤد ظاہری نے باکرہ کے نکاح کے لئے ولی کا ہونا ضروری قرار دیا ہے لیکن شیبہ بغیر ولی کے نکاح کر سکتی ہے۔منکرین حضرت ابن عباس سے مروی حدیث کو اپنے موقف کے حق میں پیش کرتے ہیں اور ظاہر ابھی اس حدیث کے ظاہر الفاظ سے استدلال کرتے ہیں۔کہتا ہے قرآنی آیات کا طرز خطاب کسی فریق کی حجت نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ محکم نہیں ہے بلکہ مجمل ہے۔نہ ہی شارع (پیغمبر) نے اپنے طرز عمل سے اس کی تشریح کی ہے۔حضرت ابن عباس کی حدیث سے بھی ظاہریہ کی تائید ہوتی ہے۔اگر اس مسئلہ پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے پر عورت کو تصرف مال کا حق شرعاً حاصل ہو جاتا ہے۔یہ نظیر یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ عورت کو عقد نکاح کا حق بھی ملنا چاہئے، ولی کو زیادہ سے زیادہ نگرانی اور شیخ کا حق دیا جا سکتا ہے۔پھر اگر شرعا ولی کی موجودگی نکاج کے لئے شرط ہوتی تو پیغمبر اس مسئلہ کی وضاحت فرما دیتے یعنی وہ اصناف اولیاء اور ان کے مراتب اور اختیارات کی تشریح بھی کر دیتے۔(بداية المجتهد جلد دوم صفحه 8-7 ) 50