ابن رشد

by Other Authors

Page 51 of 161

ابن رشد — Page 51

اختلاف کی ایک مثال بداية المجتھد میں ایک باب جہاد پر ہے۔اس میں اس بات پر بحث کی گئی ہے کہ جنگ کے دوران دشمن کو نقصان اور اس کو جسمانی زخم یا اس کی جائداد یا اس کی آزادی کا سلب کیا جاتا ( یعنی اس کو غلام بنا لینا ) کس حد تک جائز ہے ؟ اجماع ائمہ یہ ہے کہ ایسا نقصان مشرک مرد، عورت جوان ، بوڑھے، معروف یا غیر معروف افراد کو پہنچایا جا سکتا ہے۔صرف راہبوں کے بارے میں مختلف رائے ہیں، کچھ کا کہنا ہے کہ ان کو قید نہ کیا جائے ، ان کو امن میں رہنے دیا جائے ، ان کو غلام نہ بنایا جائے۔اپنی اس رائے کے حق میں وہ حدیث نبوی ﷺ پیش کرتے ہیں جس میں حضور پاک ﷺ نے فرمایا ان کو امن میں رہنے دواور وہ چیز بھی جس کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کیا ہے۔نیز وہ لوگ اپنے موقف میں حضرت ابو بکر صدیق کا عملی نمونہ بھی پیش کرتے ہیں۔اکثر علما اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ قیدیوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں اسلامی ریاست کے سر براد (امام یا خلیفہ ) کو کئی اختیارات حاصل ہیں۔وہ ان کو معاف کر سکتا ہے ، ودان کو غلام بنا سکتا ہے، وہ ان کو قتل کرسکتا ہے وہ ان کو ان کی دینی پر با کرسکتا ہے یا ایسا شخص ہی بن کر ملک میں رہ سکتا ہے۔آخری صورت میں قیدی کو جز یہ دینا لازمی ہوگا۔بعض علما کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو بھی قتل نہ کیا جائے۔الحسن ابن محمد اتمیمی کے مطابق صحابہ کرام کا اس امر پر اجماع تھا۔یہ اختلاف اس لئے پیدا ہوا : اول قرآن کریم کی آیات اس ضمن میں بظاہر متضاد ہیں۔دوم رسول کریم ہوتا ہے اور خلفاء راشدین کے طرز عمل میں بظاہر تناقض ہے۔سوم قرآن پاک کی آیات کی تعبیر رسول پاک میں کے اعمال سے بظاہر میل نہیں کھاتی ہے۔قرآن پاک کی سورۃ نمبر 47 آیت نمبر 4 میں ارشاد ہوا ہے: فاذا لقيتم الذين کفر و افضرب الرقاب، حتى اذا اثخنتموهم فشد و الوثاق - (ترجمہ : موجب تمہارا کفار سے مقابلہ ہو جائے تو ان کی گردنیں مارو ، یہاں تک کہ جب تم ان کی خوب خون ریزی کر چکو تو خوب مضبوط باندھ لو ( قیدی بنالو ) ( ترجمہ مولانا اشرف علی تھانوی ، تاج کمپنی ، لاہور )۔قرآن کی سورۃ نمبر 8 ، آیت نمبر 67 میں ارشاد ہوا ہے: ما كان لنبى ان يكون له اسرئ حتى ينخن في الارض (ترجمہ: نبی کی شان کے لائق نہیں کہ ان کے قیدی باقی رہیں ( بلکہ قتل کر دئے جائیں) جب تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح ( کفار کی ) خون ریزی نہ کر لیں۔( ترجمہ مولانا اشرف علی تھانوی صفحہ 167) نیز جس موقعے پر یہ آیت نازل ہوئی (یعنی جنگ بدر کے قیدی) اس سے مستنبط ہوتا ہے کہ قیدیوں کو قتل کر دینا بہتر ہے بجائے ان کو غلام بنانے کے۔خود آنحضور ﷺ نے میدان جنگ کے باہر قیدیوں کو بعض دفعہ قتل فرمایا لیکن بعض دفعہ ان کو معاف بھی فرما دیا۔اس کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ 51