ابن رشد

by Other Authors

Page 23 of 161

ابن رشد — Page 23

ایک اور شاعر کے طنز کے تیر ملاحظہ ہوں: خليفة الله انت حقا فارق من السعد خير مرق حمتیم الدين من عداه وكل من رام فيه فتقا اطلعك تفسلوا الله سر قوم وادعو اعلوما حقو العضا با النفاق شقا صاحبها في المعاد يسقى واحتقر والشرع وازدروه سفاهة منهم و حمقا او سعتهم لعنة و خزیا وقلت بعد الهم وسحقا فابق الدين الا له كهفا فانه ما بقيت يبقى تین سال یعنی 1195 کے 1197ء تک زیر عتاب رہا۔بعض مورخین کا کہنا ہے کہ اشبیلیہ واپس آکر جب خلیفہ منصور کو کے بڑھاپے کی عمر میں ذلت ورسوائی کا حال معلوم ہوا تو اس شرط پر رہا کرنے کا وعدہ کیا کہ مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر اعلانیہ طور پر غلطی کا اعتراف اور توبہ کرے۔چنانچہ نے اس شرط کو مان لیا اور اسے مسجد لایا گیا ، جب تک لوگ نماز ادار کرتے رہے وہ بر ہنہ سر دروازے پر کھڑا رہا۔سر پر پگڑی کے بغیر کھڑا ہونا سخت تذلیل کا باعث تھا۔کہاں قاضی القضاۃ اور کہاں یہ حالت زار۔رہائی اور رحلت روایت ہے کہ اشبیلیہ شہر کے سرکردہ افراد نے شہادت دی کہ پر بے دینی کا جو الزام عائد کیا گیادہ سراسر غلط ہے۔منصور نے ان شہادتوں کو قبول کر لیا اور سمیت اس کے تمام رفتاء کو 1197ء میں رہا کر دیا۔ان میں سے ابو جعفر ذہبی کی خاص طور پر عزت افزائی کی اور اس کو طلبہ اور اطباء کا انسپکٹر مقرر کیا۔خلیفہ منصور اس کے بارے میں کہا کرتا تھا کہ ابو جعفر خالص سونے کے مثل ہے پگھلانے سے اس کا جو ہر اور زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔ابن رشد رہا ہونے کے بعد آزادی کے ساتھ رہنے لگا، زیادہ وقت تصنیف و تالیف میں گزرتا۔قاضی کا عہدہ چونکہ بحال نہیں ہوا تھا اس لئے مستقل آمدنی کے بغیر معاش کا کوئی اور ذریعہ نہ تھا۔اس دوران ملک کے سیاسی حالات بہتر ہونے لگے۔عیسائیوں کے بادشاہ نے خلیفہ منصور کو پیغام مصالحت بھیجا۔پانچ سال مسلسل جنگوں میں برسر پیکار رہنے سے فریقین تھک چکے تھے۔خلیفہ منصور نے پیغام مصالحت سن کر چین کا سانس لیا اور دست صلح بڑھا دیا۔1196ء میں اس نے مراقش کا رخ کیا۔یہاں کے قاضی کے خلاف اس کو شکایتیں پہنچیں۔خلیفہ بھی شاید حیلہ تلاش کر رہا تھا اس نے فوراً قاضی کو برطرف کر کے کا تقرر کر دیا۔23