ابن رشد — Page 11
خواہش کی تاکہ وہ مجھے بتلا سکے کہ میری بات کا جو مطلب تھا وہ اس نے سمجھ لیا تھا۔وہ جاننا چاہتا تھا کہ جو اس نے سمجھا آیا وہ وہی تھا جو میرے کلام کا مقصد تھا یا کچھ اور۔وہ عقل سے کام لینے اور تدبر کرنے والے لوگوں میں رجل عظیم تھا۔وہ خدا کا شکر بجالایا کہ اسے اپنی زندگی میں ایک ایسے شخص کو دیکھنے کا موقعہ ملاجو گوشہ تنہائی میں جہالت کی حالت میں داخل ہوا اور بغیر مطالعہ، بحث و مباحثہ اور تحقیقات کے کندن بن کر نکالا۔" ابن العربی کی ایک اور ملاقات سے کشف کی حالت میں ہوئی: " ایک بار یک پرد: میرے اور اس کے درمیان اس طرح تھا کہ میں تو اس کو دیکھ سکتا تھا مگر وہ مجھے نہیں دیکھ سکتا تھا، نیز وہ میری موجودگی سے بالکل بے خبر تھا۔وہ اس قدر منہمک تھا کہ اس نے میری طرف بالکل توجہ نہ کی اور میں نے اپنے آپ سے کہا کہ اس آدمی کا اس راستہ پر قدم رنجہ ہونا مقدر نہیں جس پر میں گامزن ہوں۔" (6) شاہی دربار سے تعلق کے نصیب کا ستارہ موحدین کی سلطنت میں بام عروج کو پہنچا۔اس خاندان کا پہلا حکمران خلیفہ عبد المومن بن علی تھا۔اس نے بتیس سال (1163-1130ء ) حکومت کی۔موحدین حکمرانوں میں وہ واحد فرمانروا تھا جس نے فلسفیانہ علوم میں خاص دلچپسی کا عملی طور پر اظہار کیا۔اس نے اپنے دربار میں اندلس کے عظیم المرتبت فلسفی اور حکیم جیسے ابن باجہ ، مروان این زہر، ابن طفیل جمع کئے تھے۔خلیفہ عبد المومن کے دربار میں کی رسائی کا قصہ اس طرح ہے کہ عبد المومن کی حکومت سے پہلے اسکولوں کی عمارتیں خاص طور پر تعمیر نہیں کی جاتی تھیں بلکہ اندلس میں بچوں کو تعلیم صرف مساجد میں دی جاتی تھی لیکن عبد المومن نے تعلیم کو عام رواج دینے کے لئے مدارس قائم کرنے کا منصوبہ بنایا۔اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اس کو چند منجھے ہوئے تعلیمی مشیروں کی ضرورت تھی جو خود عالم و فاضل ہونے کے ساتھ ماہر تعلیم بھی ہوں۔عبد المومن کی نظر انتخاب پر پڑی جو اس کی نظر میں اس اہم تجویز کو عملی جامہ پہنانے کی اہمیت وصلاحیت رکھتا تھا۔کو 1153 ء میں مراقش طلب کیا گیا۔وہاں پہنچنے پر خلیفہ کو جب اس کی محققانہ لیاقت علمی کمالات ، روشن خیالی ، وسعت علم اور وسیع النظری کا علم ہوا تو اسے شاہی دربار کے خاص الخاص مصاحبوں اور مشیروں میں شامل کیا۔عموماً اٹھارہ سال کے نوجوان کسی نہ کسی پیشے سے منسلک ہو جاتے ہیں۔نے ابتدائی عمر میں کون سا پیشہ اختیار کیا؟ تاریخ میں اس بارے میں کچھ نہیں ملتا۔البتہ قرین قیاس ہے کہ چونکہ اس کے والد قرطبہ کے قاضی تھے 11