ابن رشد

by Other Authors

Page 12 of 161

ابن رشد — Page 12

اس لئے وہ بھی مقدمات لے کر ان کی عدالت میں حاضر ہوتا ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ قرطبہ کی شاہی لائبریری میں جس میں چار لاکھ تا در کتا بیں تھیں کتابوں کے مطالعے میں وقت گزارتا ہو۔کتابیں پڑھنے سے دماغ کو ہمیز لگتی ہے، جس کسی کو ایک دفعہ مطالعے کا چسکا لگ جائے تو جب تک وہ کتاب یا رسالہ نہ پڑھ لے ، نشہ دور نہیں ہوتا۔نیز کتابیں علم و عرفان کا سر چشمہ ہوتی ہیں۔بعض شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ طب میں کا علم کتابی حد تک محمد د دتھا۔علم وہ دولت ہے جو خرچ ہونے سے بڑھتی ہے، خدا اس دولت میں برکت دیتا ہے جو مخلوق خدا کے لئے خرچ کی جائے۔نے جب ستائیس سال کی عمر میں مرائش کا سفر کیا تو وہ اس وقت علم فلکیات کے بعض مسائل کی تحقیقات میں مصروف تھا۔وہاں پہنچ کر بھی ستارہ بینی اور مشاہدات فلکی کا سلسلہ برابر جاری رہا۔اس بات کا ذکر اس نے ارسطو کی ایک کتاب کی شرح میں کیا ہے۔خلیفہ عبد المومن کا فلسفیانہ علوم کی طرف فطری رجحان تھا ، اس نے اپنے کتب خانے میں کثیر تعداد میں بیش قیمت فلسفیانہ کتابیں جمع کی تھیں۔اس کے دربار میں فلسفی حاضر رہتے تھے ان میں سب سے ممتاز ابن طفیل تھا۔ابن طفیل ہی کی بدولت دیگر نامور فلاسفہ بھی وہاں جمع ہوئے۔ایک روز خلیفہ عبد المومن نے فلسفیانہ مسائل پر گفتگو کے دوران ابن طفیل سے کہا " ارسطو کا فلسفہ بہت دقیق ہے اور مترجمین نے عمدہ ترجمے نہیں کئے ہیں۔کاش کوئی شخص اس کا خلاصہ تیار کر کے اس کو قابل فہم بنائے "۔ابن طفیل نے خلیفہ کی اس خواہش کا ذکر سے کیا اور کہا میں بوڑھا ہو گیا ہوں، امیر المؤمنین کی خدمت سے فرصت نہیں ملتی، میں ایسا علمی کام نہیں کر سکوں گا مگر میں خوب جانتا ہوں کہ تم اس کام کو بخوبی سر انجام دے سکتے ہو۔ابن طفیل کی نگہ انتخاب جیسے قابل جو ہر پر پڑی۔دراصل اس نے میں چھپے گو ہر کو پہچان لیا تھا اس لئے اس نے اپنے قابل رفیق اور شاگرد کو اس جانب توجہ دلائی اور فرمائش کی کہ چونکہ ارسطو کی جتنی شرمیں آج تک کی گئیں ہیں وہ سب کی سب مہم اور نا قابل فہم ہیں اس لئے تم کو سیلمی خدمت انجام دینی چاہئے۔اس علمی منصوبہ پر آمادہ ہوا اور اس نے ارسطو کی کتابوں کی شرمیں لکھنی شروع کیں۔خلیفہ عبد المومن نے جب 1163 ء میں اس دنیائے فانی سے کوچ کیا تو اس کا چھوٹا بھائی ابو یعقوب یوسف سریر آرائے خلافت ہوا۔یعقوب یوسف بلند حوصلہ خلیفہ اور بذات خود فاضل اجل تھا۔وہ تیغ و قلم دونوں میدانوں میں یکتائے زمانہ تھا۔علوم عربیہ میں اس کا کوئی ہمسر نہ تھا۔صحیح بخاری کے کئی حصے اس کی نوک زبان تھے۔حافظ قرآن ہونے کے علاوہ فقہ میں مہارت رکھتا تھا۔طب میں بھی اس کو کمال حاصل تھا۔فلسفہ کا اس کو خاص ذوق تھا۔فلسفے کی کتابیں کثیر تعداد میں اس کی شاہی لائبریری کی زینت تھیں۔12