ابن رشد — Page 74
علم فلکیات میں اس کے شوق اور ایک نامعلوم ستارے کی دریافت کا ذکر بھی ایک مغربی مصنف نے کیا ہے: "Ibn Rushd, at the age of 27, made astronomical observations near Marrakesh in the course of which he discovered a previously unknown star۔" (25) ترجمہ: نے ستائیس سال کی عمر میں مراتش کے قریب فلکیاتی مشاہدات کئے ، ان مشاہدات کے دوران اس نے ایک نا معلوم ستارے کو دریافت کیا۔" ۱: كتاب ما بعد الطبیعات (مینا فزکس) کی شرح میں اس نے کہا تھا: " جوانی کے زمانے میں مجھے امید تھی کہ میں علم فلکیات پر اپنی ریسرچ مکمل کر سکوں گا۔اب جبکہ میں ضعیف العمر ہوں میں نا امید ہو گیا ہوں کیونکہ میرے راستے میں کئی رکاوٹیں نہیں۔لیکن اس موضوع پر میں جو کچھ کہتا ہوں شاید مستقبل میں محققوں کی توجہ اس طرف مبذول ہو۔ہمارے دور کی فلکیات کی سائنس ان مسائل پر روشنی نہیں ڈالتی جس سے اصل حقیقت کا حال معلوم ہو سکے۔ہمارے زمانے میں جو (سائنسی ماڈل تیار کیا گیا ہے یہ ریاضیاتی طور پر تو ٹھیک ہے مگر حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔" اس اقتباس سے مترشح ہوتا ہے کہ وہ علم فلکیات کی نظریاتی تاریخ سے باخبر تھا۔اس نے ارسطو کے سائنسی نظریات کی وضاحت بڑے عمدہ اور مدلل طریقے سے کی ہے۔وہ بطلیموس (Ptolemy) کے نظریات اور پارکس (Hipparchus) سے پہلے جو قدیم ماہرین فلکیات گزرے ہیں، ان کے نظریات سے بھی واقفیت رکھتا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ وہ عرب ماہرین ہیئت کی کتابوں کارناموں اور نظریات سے بھی اچھی طرح واقف تھا۔یادر ہے کہ البانی اور ابن یونس بطلیموس کے پیروکار تھے مگر الفرغانی، الزرقالی اور البطر وجی نے بطلیموسی نظام پر تنقید کر کے تبدیلیاں تجویز کیں۔اگر چہ ماضی قریب اور اپنے دور کے ہیئت دانوں سے متاثر تھا مگر وہ ان کی اندھی تقلید نہیں کرتا تھا۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت دور بین اور ٹیلی اسکوپ جیسے آلات نہیں تھے تو اس نے یہ مذکورہ ستارہ کیسے دریافت کیا ہو گا؟ ایک بات تو ظاہر ہے کہ وہ آسمان پر موجود دریافت شدہ ستاروں کے ناموں اور ان کے محل وقوع سے واقف تھا۔قرطبہ کے بجائے مراقش (افریقہ) میں ستاروں کا دیکھنا اس کے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے زیادہ آسان ہوگا۔یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ ستارہ بینی کے دوران ان کا ریکارڈ ضرور اپنی ڈائری میں رکھتا ہوگا اور ممکن ہے ان ستاروں کا کوئی کیٹیلاگ بھی تیار کیا ہو۔74