ابن رشد

by Other Authors

Page 75 of 161

ابن رشد — Page 75

-1 بہ حیثیت ہئیت داں اس نے اجرام فلکی کو درج ذیل طور پر تقسیم کیا: ایسے اجرام سماوی جو آنکھ سے نظر آ جاتے ہیں 2 ایسے اجرام سماوی جو آلات رصد کی مدد سے نظر آتے ہیں 3۔ایسے اجرام فلکی جن کی موجودگی عقل ( تھیورنیکل ) سے ثابت ہوتی ہے۔دوسری قسم کے اجرام سماوی مشاہدات فلکی کرنے والے سائنس دانوں کو بعض دفعہ کئی سالوں بعد نظر آتے ہیں۔نیز ان کو دیکھنے کے لئے کئی نسلوں کے درمیان باہمی تعاون و شرکت کی ضرورت ہوتی ہے مگر اس دوران مشاہدات کرنے کے لئے آلات رصد بھی بدلتے رہتے ہیں۔اس کی ایک مثال بیلیز کامٹ ( Haleys Comet) ہے جو ہر ستر سال بعد نظر آتا ہے )۔ارسطو نے حرکات الافلاک ( Concentric Spheres) کی کل تعداد 5 5 جتلائی تھی۔کہتا ہے کہ اس کی زندگی میں مسلمان ماہرین فلکیات نے یہ تعداد 50 ظاہر کی تھی لیکن نے اپنے علم اور تجربے کی بناء پر یہ تعداد 45 کردی یعنی 38 غیر متحرک ستارے (fixed stars ) اور 7 ایسے اجرام فلکی ( سیارے ) جو یومیہ محوری گردش کرتے ہیں۔ان کی اصل تعداد کیا ہے؟ اس پیچیدہ سائنسی مسئلے کا حل پیش کرتے ہوئے اس نے کہا اس سوال کے بغور جائزے میں کیا ضروری اور واقعی مسائل ہیں، ہم انہیں ان لوگوں پر چھوڑ دیتے ہیں جو خود کو اس علم کے لئے وقف کر چکے ہیں اور جن کو دوسرے علوم سے کوئی سروکار نہیں ہے۔" بطلیموس کے الافـــاك الخارجات المراكز ( system of eccentrics ) اور الافلاك التداویر ( epicycles) سے اتفاق نہیں کرتا تھا (26)۔کتاب ما بعد الطبیعات کی شرح میں اس نے ثابت این قرہ کے نظریہ الاقبال والادبار ( Trepidation & Recessions) کی جو تو ضیح پیش کی ہے وہ ان مصنفین کے برعکس ہے جن کے نزدیک یہ کائنات ہومو سینٹرک اسٹیئر ز ( Homocentric Spheres) سے بنی ہے۔اس نے افلاک میں موجود اجرام کے مشاہدے (یعنی رصد ) کی اہمیت بھی بیان کی۔علم بحیت میں اس کی درج ذیل کتابیں قابل ذکر ہیں۔تلخيص المجسطی - Summary of Almajest (اس کا لاطینی میں ترجمہ نہیں ہوا تھا ) مقاله في حركة الفلك۔Motion of the Sphere يحتاج اليه من كتاب اقليدس في المجطی۔(اس کا مخطوطہ اسکو ریال میں ہے ) مقاله في تدوير هيئة الافلاك والثوابت - 75