ابن رشد

by Other Authors

Page 61 of 161

ابن رشد — Page 61

باب سوئم بحیثیت طبیب جیسا کہ اس کتاب کے شروع میں ذکر کیا گیا نے طب کی تعلیم ابو جعفر ہارون اتر جالی جیسے مشہور اور بے مثل استاد سے حاصل کی تھی جو اشبیلیہ میں طبابت اور تدریس سے وابستہ تھا۔یعنی دن کے اوقات میں وہ مطب کرتا تھا اور سہ پہر کے بعد طلبہ کو طب کی تعلیم دیتا تھا۔اس وقت کے نامور طبیب ابن طفیل سے بھی کی دوستی تھی اس لئے طب میں مہارت حاصل کر لینا عین فطری معلوم ہوتا ہے۔یہ بات مسلمہ ہے کہ طب پر ماہرانہ قدرت اور کما حقہ گرفت رکھتا تھا۔نے جب مطب کا سلسلہ شروع کیا تو جلد ہی اس کو اپنی پریکٹس کے ذریعے اتنا تجربہ حاصل ہو گیا کہ زندگی کے چھتیسویں زینے پر جب قدم رکھا تو 1162 ء میں کتاب الکلیات قلم بند کی۔کتاب کب لکھنی شروع کی اس کے بارے میں معلوم نہیں ، ہاں قرین قیاس ہے کہ کم از کم چار سال تو ضر در قلم بند کرنے میں صرف ہوئے ہوں گے۔کسی طبیب کا مطلب کے ساتھ تصنیف و تالیف کا کام کرنا بڑا معنی رکھتا ہے۔نبض اور پیشاب دیکھ کر تشخیص کرتا تھا۔ایسا لگتا ہے کہ جو مریض اس کے پاس علاج کے لئے آتے ہوں گے ان میں سے ہر ایک کی فائل اس نے تیار کی ہوگی اور مریض کی بیماری کی مدت، علاج، تشخیص ، دواؤں کی تفصیل درج کی ہوگی۔کیونکہ انہی تحریروں ( اور درجنوں مریضوں کی علامات مرض) کی بناء پر طبیب مرض کی شناخت کے ساتھ ساتھ کتاب کے لئے مواد تیار کر لیتا تھا۔طبیبوں کو امراض کی پیش بینی (Prognosis) کا علم بھی اسی طرح ہوتا ہے مثلاً زکام کے چار مریضوں میں مرض ٹھیک ہونے میں کتنا وقت لگا؟ اگر ان میں سے ہر ایک کو تین ہفتے لگے تو یقیناً پانچویں مریض کو بتانا آسان ہوگا کہ تمہیں ٹھیک ہونے میں تین ہفتے لگیں گے۔طب میں اس کی عالمگیر شہرت دو یادگار دریافتوں کی میجہ سے ہے۔پہلی عظیم الشان دریافت یہ تھی کہ جس مریض کو چیچک (Small Pox) ایک بار ہو جائے پھر اسے دوبارہ لاحق نہیں ہوتی۔اغلب ہے کہ اس دریافت کا 61 } ' :