ابن رشد

by Other Authors

Page 60 of 161

ابن رشد — Page 60

ہے کہ دنیا کو ضرور کوئی پیدا کرنے والا ہے۔اس لئے یہ دلیل خدا کے وجود پر بہترین دلیل ہے اور اسی کا قرآن حکیم نے بار بار اعادہ کیا ہے۔(امریکہ میں آجکل اس نظریہ کا بہت چرچا ہے یہاں اسے انٹیلی جنیٹ ڈیزائن (intelligent design ) تھیوری کا نام دیا جاتا ہے مثلاً پرندوں ، جانوروں اور انسان میں آنکھ کا ڈیزائن کہنا پیچیدہ اور محمدہ ہے۔) (2) دلیل اختراع کی بنیاد بھی دو اصولوں پر ہے، ایک یہ کہ تمام کائنات مخلوق ہے اور دوسرے یہ کہ جو چیز مخلوق ہے اس کا ضرور کوئی خالق ہے، لہذا جو ہر اشیاء کا علم لازمی ہے کیونکہ جس کسی شخص کو کسی چیز کی حقیقت معلوم نہیں ہوگی اس کو صانع حقیقی کا علم نہیں ہوگا۔اشاعرہ نے لیکن خدا کے، جود پر جو دلیل قائم کی ہے اس کے مطابق خدا کے وجود پر موجودات کی دلالت کسی حکمت کی بناء پر نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد جواز پر ہے۔یعنی دنیا کا جو نظام قائم ہے اس کے برعکس بھی نظام قائم ہو سکتا تھا۔انسان کے اعضاء کی جو شکل اور تعداد ہے اس کے خلاف بھی شکل اور تعداد ہوسکتی تھی۔لیکن کے نزدیک دنیا کا جو نظام قائم ہے وہ ضروری ہے اور اس سے بہتر اور اس سے مکمل نظام قائم نہیں ہو سکتا ہے۔مثلاً انسان کے ہاتھ کی شکل اور انگلیوں کی تعداد اگر پکڑنے کے لحاظ سے افضل نہ ہو بلکہ جانوروں کی طرح اس کے گھر ہوں تو جو لوگ خدا کے وجود کے منکر ہیں اور اتفاق کے قائل ہیں ان کے خلاف کونسی دلیل قائم کی جاسکتی ہے؟ کچھ بھی ہو دنیا کی چیزوں میں جو حکمتیں پائی جاتی ہیں انہی سے خدا کے وجود پر استدلال کیا جا سکتا ہے۔بظاہر جس چیز کی کوئی مثال موجود نہیں ہوتی اس کو عوام بہ آسانی سمجھ نہیں سکتے اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کو مثالوں تلك الامثال نضربها للناس ) سے سمجھایا ہے۔جیسے خدا نے دنیا کو ایک زمان میں اور ایک چیز سے پیدا کیا ہے۔تخلیق عالم سے پہلے خدا کا تخت پانی پر تھا۔خدا نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔قرآن پاک کی اس قسم کی آیات کی تادیل عوام کے لئے نہیں کرنی چاہئے کیونکہ وہ ان کا ہم نہیں رکھتے۔تاویل صرف تین مواقع پر ہو سکتی ہے ( اول ) جہاں قرآن کی آیات کی تاویل میں اجتماع ممکن نہ ہو ( دوم ) جہاں آیات کریمہ ایک دوسرے سے بظاہر متضاد ہوں ( سوم ) جہاں قرآن کی آیات فلسفہ اور نیچرل سائنس سے میل نہ کھاتی ہوں۔كشف المناهيج کا انگریزی میں ترجمہ ابراہیم نجار نے Faith and Reason in Islam کے عنوان سے کیا ہے اور یہ آکسفورڈ سے 2001ء میں شائع ہوا ہے۔60