ابن رشد

by Other Authors

Page 27 of 161

ابن رشد — Page 27

جویان علم کے لئے ایک مرکز تھا اور اس کی ژرف نگاہی ، اصالت فکر کا ایک زمانہ معترف تھا۔ہم نے بیان کیا کہ وہ گہری نظر رکھنے والا حق تھا، تو محقق کون ہوتا ہے؟ محقق ذہنی کارنامے انجام دینے والے، رازوں سے حجابات اٹھانے والے موضوع کی عظمت کو اجاگر کرنے والے ہعلمیت، معلومات ، جودت طبع ، وجدان اور ذوق سلیم رکھنے والے کو کہتے ہیں۔محقق کے لئے علوم و خون میں مہارت ، عصبیت سے دوری اور وسعت نظر رکھنا لازمی ہے۔اس کی تحقیق میں تناسب ضروری ہے یعنی نفس مضمون اور موضوع میں مطابقت ہو۔محقق وہ ہے جو سمندر کی تہ سے لولوئے بے بہا نکال کر لاتا ہے۔خوش ذوقی، غیر جانبداری، اور صداقت ایک اچھے حق کے اوصاف ہیں۔علم اور تحقیق کا چولی دامن کا ساتھ ہے کیونکہ تحقیق سے ترقی کا عمل آگے بڑھتا ہے۔اچھا نقاد بھی تھا۔تنقید ایسے تبصرے کو کہتے ہیں جو تخلیقی کارناموں کو پر کچھ کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دے۔تنقید تخلیقات کو صحیح سمت میں لے جانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔تخلیق اور تنقید دو بہنوں کی طرح ہیں۔ایک اچھا نقاد ہر تخلیق کا مطالعہ کر کے اس کے حسن و معائب سے آگاہ کرتا ہے۔ایک دیو پیکر شخصیت ہونے کے ساتھ کثیر الجہت بھی تھا۔فقہ، طب، ہئیت اور شروح ارسطو کے سلسلے میں اس کے کارنامے سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔متجسانہ ذہن جو فطری طور پر ودیعت کیا گیا تھا اسے کائنات کے حقائق سے پردے اٹھانے پر اکساتا رہتا تھا۔عالم اسلام میں وہ سب سے پہلا عقلیت پسند (Rationalist ) تھا۔عقلیت اور اجتہاد کی خشت اول اس نے پہلے رکھی گوہ علم ومعرفت کے حصول کو محض عقل کا مرہون منت خیال نہیں کرتا تھا اور عقل کی قطعیت کا قائل نہ تھا لیکن عقل کی افادیت سے انکار بھی نہیں کرتا تھا۔اس کے نزدیک عقل اور شریعت ( الہام) کا اپنا اپنا دائرہ کار تھا۔یورپ کے فلاسفہ کی عقلیت سیکولر تھی لیکن کی عقلیت وحی والہام کے تابع تھی۔اس کے نزدیک شرع اور عقل میں تناقض نہیں ہے ، عقل بغیر شرع کے بیکار اور شرع عقل کے بغیر اپنا مقصود حاصل نہیں کر سکتی۔عقل کو چشم بیٹا کی طرح اور شریعت کو آفتاب کے مانند خیال کرنا چاہئے، آنکھ جس طرح سورج کی روشنی نہ ہونے سے بیکار ہوتی ہے اسی طرح عقل بغیر شرع کے بیکار ہے۔نے اپنی فکری صلاحیت کی روشنی میں جو اجتہادات کئے و قابل ستائش ہیں۔انہی اجتہادات نے ایک نے طریق فکر کی داغ بیل ڈالی جس کی اتباع میں آنے والے دانشوروں نے نئے چراغ روشن کئے۔علاوہ ازیں ارسطو کی کتابوں کی ہمہ گیر اور مفصل تفاسیر لکھنے کی بناء پر وہ شارح اعظم (The Great Commentato) بھی تھا۔آج کے جدید دور میں کسی کی اسلام میں اجتہاد کی بات کرنی ہو تو سب سے پہلے اس کی شخصیت ذہن میں ابھرتی ہے۔میرے نزدیک تو وہ مجتہد اعظم تھا۔میں نے انٹرنیٹ پر اس کی جو تصاویر ( یعنی پینٹنگ، کیونکہ اس زمانے میں 27