ابن رشد

by Other Authors

Page 19 of 161

ابن رشد — Page 19

مشہور مؤرخ انصاری کی روایت درج ذیل ہے: " کی بربادی کا ایک سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے اپنی کتاب حیوان میں زرافہ کے ذکر میں لکھا کہ میں نے اس جانور کو بر بر بادشاہ کے یہاں دیکھا ہے۔یہ عبارت خود اس کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تھی منصور کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو وہ اس کے قتل پر آمادہ ہو گیا"۔خلیفہ منصور نہایت فخر پسند اور جاہ پسند تھا۔لہذا یہ روایت قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔اسے بڑی بڑی شاندار عمارتیں بنوانے کا بہت شوق تھا۔اشبیلیہ کی جامع مسجد کا بلند مینار فن تعمیر کا عمدہ نمونہ جواب جیرالڈا ٹاور ( Geralda Tower) کہلاتا ہے اس کا تعمیر کردہ ہے۔مراقش شہر کی قطبیہ مسجد کا دیدہ زیب مینار بھی اسی نے بنوایا تھا۔ایک اور واقعہ سے بھی اس سب کو تقویت ملتی ہے۔1191ء میں جب صلیبی نوجوں نے یورپ سے شام اور فلسطین کی طرف رخ کیا تو صلاح الدین ایوبی نے منصور سے فوجی مدد مانگی۔خط میں صلاح الدین نے منصور کو امیرا المسلمین کے خطاب سے مخاطب کیا تھا منصور کو یہ طرز خطاب ناگوار گزرا اور مدد دینے سے انکار کر دیا۔صلاح الدین کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے اس کو امیر المومنین تسلیم نہیں کیا لیکن نے تو اسے شاہ بر بر کہہ کر قیامت برپا کر لی، اس سے زیادہ منصور کی تو ہین کیا ہو سکتی تھی۔جس محفل میں خلیفہ منصور کو یہ اطلاع دی گئی اس میں کا دوست ابو عبد اللہ اصولی بھی موجود تھا۔اس نے کہا کہ پر غلط الزام لگایا گیا ہے دراصل اس نے لکھا ہے کہ میں نے اس جانور کو مسلك البرين (دونوں ممالک، اندلس اور مراقش) کے بادشاہ کے یہاں دیکھا ہے۔اصولی کی یہ دلیل اس وقت تو پسند کی گئی اور منصور اپنا غصہ دیا گیا لیکن اس کے بعد جب گرفتار کیا گیا تو اس کے ساتھ ابو عبد الله اصولی کو بھی گرفتار کر کے لوسینا کی بستی میں جلا وطن کر دیا گیا۔(6) بعض کا کہنا ہے کہ جتنی روایتیں اوپر بیان ہوئی ہیں ان میں سے ایک بھی کی رسوائی کا سبب نہ تھی بلکہ یہ وہ واقعات ہیں جو اس کی ذلت ورسوائی کے وقت ظہور پذیر ہوئے۔اصل بات یہ ہے کہ خلیفہ منصور اس وقت بادشاہ الفانسو ہشتم کے خلاف جہاد میں مصروف تھا۔مالکی فقہ کے علما کا اس وقت ملک میں اثر ورسوخ بہت زیادہ تھا۔اسے علماء کی مکمل حمایت کی ضرورت کے علاوہ ملک کے اندر سیاسی استحکام کی بھی ضرورت تھی۔علما کے سیاسی اثر اور زور کا اندازہ کرتے ہوئے وقتی طور پر خلیفہ منصور نے یہ مناسب جانا کہ شاہی فرمان جاری کر دے کہ لوگ فلسفیانہ علوم کی تعلیم کو ترک کر دیں اور ایسی تمام کتابیں نذر آتش کر دی جائیں۔نیز علما کی آتش غضب کو کم کرنے کے لئے چند فلسفیوں کو جلا وطن کر دیا۔بہت ممکن ہے کہ خلیفہ کو یہ بات ناگوار گزری ہو کہ افسران حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کر 19