ابن رشد

by Other Authors

Page 125 of 161

ابن رشد — Page 125

آکسفورڈ میں تھا۔راجر بیکن (Bacon) کا تعلق اسی فرقے سے تھا۔اس نے کی تلخیص طبیعیات (Epitome of Physics)، شرح مقاله فى الروح ، شرح مقاله في السماء والعالم سے بہت سے اقتباسات اپنی کتاب میں ہو بہو نقل کئے۔اس کے برعکس روی نکن (Dominican) فرقہ کے فلسفے کا سب سے زیادہ مخالف تھا۔چنانچہ سینٹ ٹامس ایکوئے ناس (Acquinas) نے اپنی کتاب رد میں اس پر شدید حملے کئے تھے۔اسی طرح ایک عیسائی عالم آرنلڈ آف ویلانووا ( Amold of Vilanova 1240-1311 ء ) نے کی کتابوں کا مطالعہ محض اس لئے کیا تا کہ وہ ان میں غلطیاں تلاش کر سکے۔اس نے افسوس کا اظہار کیا کہ عیسائی فکر و خیال کا انحصار بے دین (مسلمان) عالموں کی تعلیمات پر ہے۔کے نظریات کو رد کرنے کے لئے اس نے اس کے نظریات میں ملاوٹ کر کے ان کو اپنی طرف سے پیش کیا۔اور یہودی فضلا تیرہویں صدی میں مائیکل اسکاٹ نے ارسطو کی جن کتابوں کے تراجم کئے وہ ہیں: Zoology, Physics, On the Heavens, On Actions and Passions, Meteorology۔On Generation & Corruption ان تراجم کا لوگوں نے کوئی خاص مطالعہ نہیں کیا لیکن جب یورپ میں یونیورسٹیوں کا آغاز ہوا تو آرٹس کے نصاب کے لئے انہیں منتخب کیا گیا۔مائیکل اسکاٹ ٹولیڈ: (اسپین) سے ہجرت کر کے فریڈرک دوم کے دربار میں گیا تو وہاں جا کر اس نے کی جن شرحوں کے تراجم کئے ان میں On the Heavens, On the Soul Physics, Metaphysics شامل ہیں۔بادشاہ کے درباری فلسفی تھیوڈور آف انڈیاک ( Theodore of Antiach) نے کی شرح Proemium to the Physics کا ترجمہ کیا نیز ایک اور درباری ولیم آف لو (William of Luna) نے Categories, De interpretatione کے ترجمے کئے۔عیسائی محققین جب کی عربی میں لکھی کتابوں کے تراجم کرتے تو یہودی فضلا ان کے ترجمان کے فرائض انجام دیتے تھے۔یہ طریقہ چودہویں صدی کے شروع تک مروج رہا جب کالو نے مس بن مائر (Calonymus ben Meir) نے تهافت التهافة کا ترجمہ نیپلز کے بادشاہ رابرٹ آف انجو ( Robert of Anjou) کے لئے کیا۔تیرہویں صدی کے ختم ہونے سے قبل عربی کتابوں کے لاطینی تراجم عبرانی تراجم سے کئے جانے لگے کیونکہ یہودی عالموں نے اسپین سے ہجرت کرنے کے بعد یورپ پہنچ کر عربی کے بجائے عبرانی زبان استعمال کرنی شروع کر دی تھی۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ انہوں نے فلسفہ کی متعدد کتابوں کے تراجم عبرانی میں کر دئے۔125