ابن رشد — Page 126
اس طرح کی 38 تفاسیر اور شرحوں میں سے 15 کے تراجم عبرانی میں ہوئے۔ان میں سے اولین ترجمہ سلی کے بادشاہ فریڈرک دوم کے درباری مترجم جیکب اناطولی نے Die Interpretatione کی شرح متوسط کا کیا۔تیرہویں اور چودہویں صدی میں فرانس ، کیلا لونیا اور اٹلی میں جن مترجمین نے یہ فرائض انجام دئے ان میں موسیٰ ابن طبون Moses ben Tibbon) ، لیوی بن جیرسان (Levi Ben Gerson)، موئی ابن ناربون Moses ben Narbonne) ، زکریا ابن الحق Zachariah ben Isaac) شامل ہیں۔ان عالموں نے نہ صرف کی شرحوں کے ترجمے کئے بلکہ ان پر اعلیٰ شرحیں لکھیں۔History of Islamic) Philosophy, M۔Fakhri, Columbia University Press, NY, 2004, page 285) پوپ لیور ہم Pope Leo X) اور کا رڈینیل گریمانی (Cardinal Grimani) کی سر پرستی میں نے تراجم بھی کئے گئے۔ان تراجم کی فہرست درج ذیل ہے: ایلاس ڈیل میڈ میگو (Elias del Medigo) پالوس اسرائیلیوں (Paulus Israelita) ابرام ذکی بالمیز (Abram de Balmes) جو ہانس پورانا (Johannes Burana) وائی نالس نی سس (Vitalis Nissus) Metaphysics, Prior Analytics On the Heavens Topics۔Rhetoric, Poetics Prior Analytics, Posterior Analytics On Generation & Corruption جیکب مان ٹینس (Jacob Mantinus) اس نے کی دس شرحوں کے تراجم از سرنو کئے، اور افلاطون کی جمہوریہ کا بھی ترجمہ کیا۔(1549ء) قابل ذکر بات یہ ہے کہ 1330ء کے بعد پرنٹنگ پریس کی ایجاد پر پرانے تراجم اور نئے تراجم اکھٹے ایک جلد میں شائع کئے گئے۔1550 ء میں وفیس (اٹلی) میں ارسطو کی کتابوں کے مجموعہ (Corpus) اور کی شرحوں کو مکمل سیٹ کی صورت میں شائع کیا گیا۔اس کے مزید ایڈیشن 1562ء اور 1573ء میں منظر عام پر آئے۔سولہویں صدی میں یورپ کے فضلا میں عربی زبان سیکھنے کا رجحان پیدا ہوا تا کہ دو عربی کتابوں کا مطالعہ براہ راست کریں۔چنانچہ عربی کی صرف و نحو اور لغت غرناطہ کے عالم پید رو الکالہ (Pedro Alcala) نے 1505ء میں شائع کی۔ایک عرب عالم الحسن غرناطی (1485-1554ء، تیونس ) جس کو اغوا کر لیا گیا تھا اور جس کا عیسائی نام پوپ لیور ہم نے لیو افریکنس (Leo Africanus) رکھ دیا تھا، اس نے 1518ء میں عرب عالموں کی سوانح عمریوں پر ایک کتاب لکھی۔ایک کتاب بنام تھیالوجی آف ارسٹائل (Theology of Aristotle) دمشق میں 126