ابن رشد

by Other Authors

Page 77 of 161

ابن رشد — Page 77

۔مصنف نے کا ان الفاظ میں تذکرہ کیا ہے: " وهو جزء ان جزء رصدی مشتمل على نظرية الالآت الرصدية وكيفية الارصاد وقياس الزمن۔وجزء حسابي يعلم طرائق حساب الزيجات والتقاويم وغير ذالك على قواعد النظريات المثبة فى الاقسام الاولى و اضيف الى ذلك ان الجزء الرصدي من هذا القسم هو ما يسميه الفيلسوف الاندلسي الشهير ابو الوليد الحفيد المتوفي سنة ۱۱۹۸ صناعة النجوم التجريبيية (كتاب ما بعد الطبيعة ص ٨٣ من طبعة مصر (١٩٠٣ء) قانه يمى سائر اجزاء علم الهئية صناعة النجوم التعاليمية ابى المبنية على التعاليم وهي الرضيات" ( صفحه (۲۲) (مصنفه السنيور كرلو نلينو الاستاذ بالجامعة المصرية و بجامعة بلروم با يطاليه۔طبع مدينة روما العظمى سنة ١٩١١ء) - (28) اور بطلیموس اسی طرح ایک اور مصنف پروفیسر جارج صلیبیا، کولمبیا یونیورسٹی، نیو یارک ، اپنی کتاب ہسٹری آف عربک اسٹرانومی میں کہتا ہے کہ جن لوگوں نے بطلیم ہیں (Ptolemy) کی اسٹرانومی پر کڑی تنقید کی ان کے دو گروپ تھے ایک گروپ جس نے صرف اس کی اسٹرانومی پر تنقید کی مگر اس کا کوئی متبادل نظام پیش نہیں کیا۔دوسرے وہ لوگ تھے جو اس کے متبادل نظام کا خود کوئی ریاضیاتی ماڈل (Mathematical Model) پیش نہیں کر سکتے تھے تا کہ ان کی فلسفیانہ جستجو اور سوالوں کے جواب مل سکیں۔وہ جو ریاضی کے امور میں خود ماہر تھے اس لئے انہوں نے بطلیموں نظام پر تنقید سائنسی نقطہ نظر سے کی اور بطلیموی نظام کو ریاضی کے اصولوں پر تعمیر کرنے کی سعی کی۔وہ سائنس داں جنہوں نے فلسفیانہ نقطہ نظر کو مد نظر رکھ کے تنقید کی ان میں سے زیادہ تر کا تعلق اندلس سے تھا۔جیسے ابن باجہ (1139ء ) ابن طفیل (1185ء) (1198ء ) البطر و جی (1200ء)۔ان سائنس دانوں کی کوشش تھی کہ کسی طرح وہ ارسطو کے نظام بیت کی احیائے ثانی کر سکیں۔وہ کسی ایسے نظام ہئیت کو قابل قبول نہیں سمجھتے تھے جو ارسطو کے مفروضوں سے میل نہ کھاتا تھا۔ان کا بطلیموسی نظام ہئیت پر بڑاعتراض یہ تھا کہ اس میں الافلاک الخارجات المراکز اور الافلاک اتمد اور موجود تھے۔(29) ایک اور جگہ یہی مصنف کہتا ہے کہ اسلامی دنیا کے مشرقی ممالک میں ابن سینا اور اس کے شاگرد ابو عبید الجوز جانی 77