ابن رشد

by Other Authors

Page 76 of 161

ابن رشد — Page 76

یادر ہے کہ المجسطی اسکندریہ کے سائنس داں عظیموں کی علم فلکیات پر مبسوط جلیل القدر کتاب ہے، جس کا مطالعہ 1400 سال تک ماہر ین ہیئت کرتے رہے۔یہ کتاب اس نے 150ء میں لکھی تھی۔اس کو بائیبل آف اسٹرانومی بھی کہا جاتا ہے۔یونانی زبان میں اس کا نام مینگالے پیتھیک سنیکس (Megale Mathematike Syntaxis) تھا۔اس کا مخفف مجسطی سنیکس (Magiste Syntaxis) ہے۔عرب مترجمین ( الحجاج ، الحق ابن حنین ، ثابت ابن قرة ) نے نویں صدی میں جب اس کا ترجمہ بغداد میں کیا تو اس کا نام المجسطی (The Greatest) رکھ دیا جو آج تک مروج ہے۔یونانی زبان میں مکمل کتاب تو کب کی نا پید ہو چکی ہے۔دنیا بغداد کے مسلمانوں کی رہین منت ہے جنہوں نے اس کا عربی میں ترجمہ کر کے رہتی دنیا تک کے لئے اس نایاب علمی خزانے کو محفوظ کر دیا سیکڑوں سائنس داں اس کے مطالعے سے اپنے ذہنوں کو جلا بخش چکے ہیں۔یونان میں یہ آخری بار 1913ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی تھی۔نے اس کی جو تلخیص سپرد قلم کی تھی اس کا عبرانی میں ترجمہ جیکب انا طولی ( Jacob Anatoli) نے 1231ء میں کیا تھا۔کتاب کے مطالعہ سے بطور سائنس دان کی علمی حیثیت مسلم ہوتی ہے جس نے اس قدر مشکل کتاب کو سمجھا اور خلاصہ تیار کیا۔تلخیص کی تیاری بھی مہارت فن کا اظہار ہے۔کوئیز یونیورسٹی کی ڈگلس لائبریری میں اس کا عربی سے انگلش ترجمہ بمع حواشی موجود ہے، جو پہلی بار 1984ء میں لندن سے شائع ہوا تھا۔یہ ترجمہ 693 صفحات پر مشتمل ہے۔اس کے تیرہ ابواب ہیں۔کتاب میں اسٹار کیٹلاگ کے علاوہ آلات ہیت بھی دئے گئے ہیں۔اس کتاب میں اس نے زمین کو کائنات کا مرکز قرار دیا تھا اور اس کے تین ثبوت دئے تھے۔اس نے یہ بھی کہا تھا کہ زمین گردش نہیں کرتی ہے (27)۔مقاله في حرکت الفلک کے ضمن میں یہ بتادینا ضروری ہے کہ تفسیر ما بعد الطبيعة (صفحہ 1664) میں اس نے کہا تھا کہ جب میں نو جوان تھا تو اس موضوع پر شرح وبسط سے تحقیقات کا ارادہ تھا مگر اب بڑھاپے میں پہنچ کر مایوس ہو گیا ہوں۔ممکن ہے اس نے اس سائنی مسئلہ پر کافی غور و خوض کیا ہوا اور جب اس کا کوئی حل نہ مل سکا تو مزید تحقیقات کا ارادہ ترک کر دیا۔سائنس دانوں کے ساتھ ایسا ہوتا رہتا ہے۔ضروری نہیں کہ ہر اس سائنسی مسئلہ کے جس پر ریسرچ شروع کی ہے خاطر خواہ نتائج بھی حاصل ہوں۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سائنس داں سو نظریات وضع کرتے ہیں مگر ان میں صرف پانچ ٹھیک ثابت ہوتے ہیں۔تقریباً سو سال قبل 1911ء میں روم سے عربی زبان میں کتاب علم الفلك ، تاريخه عند العرب في القرون الوسطى شائع ہوئی تھی جس کا ایک نسخہ میری ذاتی لائبریری میں موجود ہے اس کے مصنف پروفیسر کارلو نالینو ( Carlo Nallino) نے علم فلکیات کی یہ اقسام بیان کی ہیں: علم البيئية الكروى علم البعيد النظري علم الميكا نیتہ الفلكية علم طبعة الاجرام الفلكية - علم البیعیة العملی۔آخری قسم یعنی پریکٹیکل اسٹرانومی کی تفصیل دیتے ہوئے 76