ابن رشد

by Other Authors

Page 78 of 161

ابن رشد — Page 78

نے بطلیموس کے سیاروں کے مدار سے متعلق مسئلہ ایکیوٹینٹ Problem of Equand) کا نیا حل پیش کرنے کی کوشش کی تھی تا کہ اس کے نظام کی ریاضی اور طبعی ضروریات کو مطمئن کیا جاسکے۔جوز جانی نے ایک رسالے میں لکھا ہے کہ ابن سینا نے اس کو بتلایا کہ میرے پاس اس کا حل موجود ہے لیکن ابن سینا نے یہ حل اسے دکھا یا نہیں تھا۔اس صدی میں ابن الہیشم ( مصر ) نے ایک مقالہ الشكوك على بطليموس لکھا جس میں اس نے بطلیموس کے نظام بحیت پر مدلل علمی اعتراضات کئے اور اس میں موجود تضادات کو واضح کرتے ہوئے بطلیموس کے متبادل نظام کے لئے کچھ شرائط کا ذکر کیا۔ابن الہیشم کے چیلنج کے جواب میں اندلس کے مشہور ہیئت داں جیسے ابن باجہ ( ساراگوسا)، ابن طفیل (غرناطه ) ، ( قرطبہ) البطر وجی (اشبیلیہ1204ء) اور جابر ابن افلح (اشبیلیہ 1200ء) نے بطلیموس کے نظام ہئیت کو از سر نو مرتب (reformulate) کرنے کی کوشش کی۔کیا یہ ماہرین ہیئت ابن الہیشم کے چیلنج کے جواب میں ریسرچ کا کام کر رہے تھے؟ یہ قطعی طور پر معلوم نہیں ہو سکا البتہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی ریسرچ کا محرک شائد یہی تھا۔کو پرٹیکس ان اندلی ماہرین ہیئت کی ریسرچ سے اچھی طرح آگاہ تھا۔کو پرنیکس نے ان کی ریسرچ سے کس حد تک استفادہ کیا اس کا قطعی علم اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک ان کی عربی اور لاطینی میں موجود کتابوں کو دوبارہ ایڈٹ (edit) نہیں کیا جاتا۔(30) علم نجوم پر یقین نہیں رکھتا تھا بلکہ اس نے اس کو مکمل طور پر رد کیا۔اس نے لکھا ہے: "It does not belong to physical science; it is only a prognostication of future events, and is of the same type as augury and vaticination۔" (31) کے علاوہ کئی دیگر مسلمان سائنس داں بھی علم نجوم پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ہاں علم فلکیات کی افادیت اسلامی نقطہ نظر سے علما اور فقہا سب پر عیاں تھی مثلاً اس کے ذریعے یعنی مکہ مکرمہ کا رخ کسی علاقے سے تلاش کرنا ، رمضان المبارک کے مہینہ کے آغاز کا تعین ، اسلامی تہواروں (حج) کا تعین ، نمازوں کے اوقات کا تعین، وغیرہ۔یادر ہے کہ مساجد میں مواقیت الصلوة (Time Keeper) کا سلسلہ اسی طرح شروع ہوا تھا۔جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ذکر کیا گیا کہ مشرق کے اسلامی ممالک میں ابن سینا نے پرابلم آف ایکوئیٹ پر غور و خوض کے بعد اس کا حل پیش کیا تھا۔اندلس میں اس مسئلے پر جابر ابن افلح نے تحقیقی کام کیا اور بطلیموس پر تنقید کرتے ہوئے کیا: 78