ابن رشد

by Other Authors

Page 52 of 161

ابن رشد — Page 52

نے اجماع کیا کہ اہل کتاب کے مرد اور عورتیں غلام بنائے جا سکتے ہیں۔وہ لوگ جن کی رائے یہ ہے کہ آیت کریمہ 47:40 ) جو قتل کی ممانعت کرتی ہے وہ سنت نبوی کی تنسیخ کرتی ہے ان کی رائے میں قیدیوں کوقتل نہیں کیا جاسکتا۔اس کے برعکس بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ چونکہ نبی پاک نے قیدیوں کو قتل کیا کرتے تھے، وو در اصل آیت 47:4 کے حق میں تصدیق ہے۔اس لئے نبی کریم نے اگر بدر کے قیدیوں کو قتل نہیں فرمایا تو وہ مناسب ہے، کوئی شکایت والی بات نہیں۔یوں ایسے لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ قیدیوں کا قتل کرنا جائز ہے (15)۔اختلاف کی ایک اور مثال نے لکھا ہے کہ دشمن کی جائیداد ( جیسے عمارتوں ، مویشیوں ، زرعی فصلوں ) کو کسی قسم کا نقصان پہنچایا جا سکتا ہے؟ اس بارے میں مختلف آراء ہیں۔مالک بن انس نے درختوں ، پھلوں اور عمارتوں کو گرانے کی اجازت دی ہے لیکن مویشیوں کو قتل کرنے کی اور کھجور کے درختوں کو جلانے کی اجازت نہیں دی ہے۔اوزاعی نے پھلوں والے درختوں اور عمارتوں کے گرانے کی مخالفت کی ہے چاہے ایسی عمارتیں گرجے ہی کیوں نہ ہوں۔امام شافعی نے فرمایا ہے کہ عمارتیں اور درخت جلائے جا سکتے ہیں بشرطیکہ دشمن ان کو قلعوں کے طور پر استعمال کر رہا ہو۔اگر ایسا نہیں تو عمارتوں کا گرانا اور درختوں کا کا ثنا قابل سرزنش ہے۔اس اختلاف کی کئی وجوہات ہیں۔مثلاً حضرت ابو بکر کی عملی نمونہ آنحضرت ﷺ کی سنت کے خلاف تھا۔ایک مستند روایت کے مطابق نبی پاک ﷺ نے قبیلہ بنونضیر کے کھجور کے درختوں کو آگ لگا کر جلا دیا تھا۔جبکہ حضرت ابو بکرہ کا نا قابل تردید حکم یہ ہے کہ درخت مت کا اٹو اور عمارتوں کومت گراؤ۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت ابو بکر نے اگر ایسا فرمایا تو صرف یہ جان کر کہ نبی پاک کا عملی نمونہ منسوخ ہو چکا ہے کیونکہ ابو بکرے کے لئے یہ کیسے ممکن تھا کہ ود نبی کریم کی سنت کا علم رکھتے ہوئے تردید کرتے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ کا یہ عمل صرف اور صرف بنونضیر کے قبیلہ کے لئے تھا کیونکہ ان لوگوں نے نبی پاک پر حملے میں پہل کی تھی۔جو لوگ ایسے دلائل پیش کرتے ہیں وہ ابو بکر کے نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہیں۔اس کے برعکس ایسے لوگ بھی ہیں جو سراسر نبی پاک ﷺ کے عملی نمونے پر انحصار کرتے ہیں۔ان کا نظریہ یہ ہے کہ کسی کے قول کو اس کے اپنے عملی نمونے کے برعکس دلیل کے طور پر پیش کرنا صحیح نہیں ہے۔اس لئے ان کے نزدیک درختوں کا جلاد دینا جائز ہے۔امام مالک نے مویشیوں اور درختوں میں فرق بیان کیا ہے۔ان کے نزدیک مویشیوں کا قتل اذیت دینے کے مترادف ہے، اس لئے یہ قطعی طور پر منع ہے۔مزید برآں آنحضور ﷺ نے کبھی بھی جانوروں کو قل نہیں فرمایا تھا۔52