ابن رشد — Page 48
متضاد آیات یا احادیث نبوی ﷺ کو پیش کر کے ان میں مطابقت ثابت کرنے کی کوشش کی۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آیا ایک حکم ہر چیز پر لاگو ہے یا کہ اس میں مستثنیات (exceptions ) ہیں یا پھر یہ کہ فلاں حکم بالکل مفسوخ ہو گیا ہے۔اگر چہ مالکی مذہب کا پیروکار تھا لیکن اس کے باوجود اس نے مختلف ائمہ مذاہب (امام ابو حنیفہ امام شافعی ، امام حنبل) کی آراء بالکل غیر جانب داری سے پیش کیں۔مالکی مذہب سے تعلق کا اظہار فقط اس وقت ہوتا ہے جب وہ اپنے مذہب کے بارے میں کسی شرعی مسئلے پر پائے جانے والی دوسرے مذاہب کی آراء سے زیادہ روشنی ڈالتا ہے۔نے بداية المجتهد و نهاية المقتصد ) Primer for the discretionary scholar) ایسے شخص کے لئے جو ذاتی کوشش ( اجتہاد ) کرنا چاہتا ہے ، 1167ء میں مکمل کی ، ما سواحج کے باب کے جو 1188ء میں لکھا گیا تھا۔اس کتاب کا تعلق ادب کی اس شاخ (genre ) سے ہے جس کو علم الاختلاف کہا جاتا ہے۔کتاب میں جملہ موضوعات پر مختلف مذاہب کی آراء پیش کی گئی ہیں اور فقہاء کے مابین اختلاف ( controversy ) اور ان کے دلائل پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔اس کتاب کو فقہی کتابوں میں نمایاں مقام حاصل ہے۔اس کے مطالعہ سے اجتہاد کی قوت اور استعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔یادر ہے کہ اجتہاد صرف فقہی مسائل میں کیا جاتا ہے یعنی جب قرآن اور حدیث کسی مسئلے پر خاموش ہوں تو اجتہاد کر کے مسئلے کا حل نکالا جاتا ہے۔نے اس کی تصنیف کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے کہا ہے: اس کتاب کی غرض یہ ہے کہ اگر انسان لغت اور اصول فقہ سے بقدر ضرورت واقف نہ ہو تو اس کے مطالعہ سے اس میں اجتہاد کی قوت پیدا ہو جائے۔اور اسی وجہ سے ہم نے اس کتاب کا نام بداية المجتھد رکھا کیونکہ اس کے بغور مطالعے سے ( انسان میں ) اجتہاد کی استعداد پیدا ہو سکتی ہے۔ہمارا مقصد اس کتاب سے یہ ہے کہ ہم۔شریعت کے متفق علیہ اور مختلف علیہ احکام کے مسائل بیان کر دیں، کیونکہ ان دونوں قسم کے مسائل کی واقفیت کے بعد ہی کوئی مجتہد اس اصول کو جان سکتا ہے جس کے ذریعے وہ پیش آمد اختلاف کو رفع کر سکتا ہے۔اگر ان مسائل کی واقفیت کے ساتھ ساتھ فقہاء کے اختلاف کے علل و اسباب بھی ( انسان کے ) ذہن نشین ہو جائیں تو انسان ہر جدید حادثے کے متعلق شرعی فتوی دینے کے قابل ہو سکتا ہے۔اس کتاب کی تین خصوصیات ہیں: (1) بداية کے مضامین کی ترتیب دیگر کتب فقہ کی ترتیب سے مختلف ہے۔مثلاً عبادات کے بعد کتاب الجہاد کو کتاب الایمان اور معاملات سے مقدم رکھا گیا ہے کیونکہ کے نزدیک جہاد کا مرتبہ عبادات کے بعد 48