ابن رشد

by Other Authors

Page 32 of 161

ابن رشد — Page 32

آزادی نسواں کی حمایت آج کے دور میں عورتوں کے حقوق اور آزادی کا ہر طرف چر چا ہے۔مغرب میں آزادی نسواں (women's lib) پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ اس تصور کے بیج کو مغرب میں کس نے بویا تھا جو آج یہ تن آور درخت بن کر ایک پوری تحریک کو اپنے سایہ کے نیچے لئے کھڑا ہے؟ یادر ہے کہ حقوق نسواں کا سب سے پہلا علمبر دار یورپ میں تھا۔افلاطون کی کتاب الجمهوريه (جوامع سياسية افلاطون ) کی شرح متوسط میں اس نے کہا ہے کہ " عورتیں تمام معاملات زندگی میں مردوں کے مساوی ہیں، ہاں صرف یہ کہ دو فطری طور پر کمزور ہوتی ہیں۔اسن اور جنگ دونوں حالتوں میں دونوں کی قابلیتمیں ایک جیسی ہیں۔اس دعوئی کے حق میں اس نے یونانی، عرب، اور افریقی (بربر) جنگ جو عورتوں کا ذکر کیا ہے۔مزید کہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کا مقام افلاطون کی جمہوریت میں دئے گئے شہری مساوات کے برابر کا نہیں ہے۔عورتوں کو بچے جنم دیتے ، دودھ پلانے اور ان کی پرورش کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو کہ ملک کی اقتصادیات کے لئے برا نیز ریاست کی غربت کا اصل سبب ہے۔اس کے نزدیک عورتوں میں حکمراں اور فلسفی پیدا ہو سکتے ہیں۔(8) اس نے مزید کہا کہ معاشرے کو اچھے سے اچھا بنایا جا سکتا ہے، اس نے معاشرہ اچھا بنانے کے طریقے بھی بتلائے۔ان سیاسی خیالات نے مذہبی علما اور سیکولر حکمرانوں اور کیتھولک پادریوں کو بھی مخمصے میں ڈال دیا کیونکہ یہ سب گردہ چاہتے تھے کہ معاشرہ جوں کا توں قائم رہے نا ہر کس و ناکس اپنے حقوق کی بات نہ کر سکے۔مکمل اقتباس ملاحظہ فرمائے : ہماری سوسائٹی میں عورتوں کے ہنرا جاگر کرنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔بچوں کا پیدا کرنا اور ان کی نگہداشت کرنا ان کا مقدر بن چکا ہے۔اس غلامی کی حالت نے ان میں بڑے کام کرنے کی اہمیت سلب کردی ہے، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی عورت ایسی نہیں جس میں پر از حکمت خوبیاں ودیعت کی گئی ہوں۔وہ جڑی بوٹیوں کی طرح بے سود اپنی زندگیاں گزارتی ہیں۔اپنے شوہروں کے لئے انہوں نے خود کو وقف کر رکھا ہے۔اس سے وہ زبوں حالی جنم لیتی ہے جو ہمارے شہروں میں عام ہے کیونکہ عورتیں تعداد میں مردوں سے دو گنا سے زیادہ ہیں لیکن ضروریات زندگی وہ اپنی محنت سے پوری نہیں کر سکتیں۔" (9) اندلس کے اس دور کے معاشرہ میں عورت گویا مرد کی جائیداد تصور کی جاتی تھی۔مرد ایک سے زیادہ شادیاں کر سکتا تھا اور جب چاہے طلاق دے سکتا تھا۔عورتیں اپنے گھروں میں محبوس رہتی تھیں علمی کام کرنے کی استعداد ان میں مفقود سمجھی جاتی تھی۔کوئی عورت فقیہ، قاضی، استاد، منصف، حاکم کی صورت میں کہیں ڈھونڈے بھی نہیں ملتی تھی۔قارئین انداز و فرما ئیں نے حقوق نسواں کی بات ایک ایسے معاشرے میں ایک ہزار سال قبل کہی تھی 32