ابن رشد

by Other Authors

Page 7 of 161

ابن رشد — Page 7

مشہور تھا۔اور ابن زہر کے درمیان اکثر علمی موضوعات پر مباحثہ (debate ) ہوا کرتا تھا۔ایک دفعہ دونوں میں اس موضوع پر مباحثہ ہوا کہ قرطبہ اور اشبیلیہ میں کون سا شہر اچھا ہے؟ دونوں نے دلائل پیش کئے ، نے قرطبہ کے علمی، ادبی اور سائنسی ماحول کا ذکر کرتے ہوئے کہا : " جب کوئی عالم اشبیلیہ میں رحلت پاتا ہے تو اس کی کتا ہیں قرطبہ بھیج ہی جاتی ہیں اور جب کوئی گویا ( معنی ) قرطبہ میں موت کی گود میں جاتا ہے تو اس کے آلات موسیقی اشبیلیہ بھیج دئے جاتے ہیں"۔تلانده اندلس میں اس زمانے میں بچوں کو مسجد میں تعلیم دی جاتی تھی۔شاگر وزمین پردائر ، بنا کر بیٹھتے اور استاد کسی اونچی جگہ ( کرتی ) پر ایستادہ ہوتا تھا ، اس کو حلقہ کہا جاتا تھا۔یورپ میں یونیورسٹیوں میں چیر ز (chairs) قائم کرنے کا رواج اس کرین کی یادگار ہے۔جب طالب علم تعلیم مکمل کر لیتا تو اسے اجازہ (licence) دیا جاتا، یورپ میں ڈگری اس کی نقل ہے۔گریجویٹ طالب علم پگڑی پہنتے تھے ، یورپ میں ہوڈ (hood) اسی کی یاد گار ہے۔اعلیٰ تعلیم والے طلبہ (گر یجوئیٹ ) استاد کے قریب اور مبتدی بپیچھے بیٹھتے تھے۔کے دادا قرطبہ کی جامع مسجد میں درس دیا کرتے تھے۔ممکن ہے نے بھی قرطبہ کی کسی مسجد میں درس کے فرائض انجام دئے ہوں۔اس زمانے میں درس کا طریق عموماً یہ ہوتا تھا کہ استاد کسی خاص مسئلہ پر تقریر کرتا، شاگرد تقریر کے دوران سوالات کرتے اور جو کچھ استاد بتاتا اس کو زیب قرطاس کرتے تھے۔یہی لیکچر ( نوٹس ) بعد میں کتابی صورت میں شائع کئے جاتے تھے۔کی کتابوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی زبانی لیکچر دیا تھا۔چنانچ علم کلام کی دو کتا میں اس نے اس طرح قلم بند کیں۔ارسطو (322-384 قبل مسیح) کی بعض شرحوں کا انداز بیان بھی خطیبانہ ہے۔ارسطو بھی نہیں ٹہل کر لیکچر دیا کرتا تھا۔فقہ وحدیث میں کی مہارت کا یہ عالم تھا کہ پورے اندلس میں اس کا کوئی نظیر نہ تھا۔متعدد تلامذہ نے اس کے آگے زانوئے تلمذ تہ کیا ان میں ابو بکر بن جبور، ابومحمد بن حوط اللہ، سہیل بن مالک ، ابو الربیع بن سالم ابو القاسم بن طیلسان ابن بندرد کے نام تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔فلسفہ منطق ، طب اور علم کلام پر بھی لیکچر دیتا تھا۔طب وفلسفہ میں اس کے نامور تلاند : میں سے کتاب تاریخ فلاسفة الاسلام میں احمد بن جعفر صادق اور ابو عید اللہ الند ردمی کے نام دئے گئے ہیں۔معاصرین این رشد کا خاندان قرطبہ کے نامور اشراف اور باعزت خاندانوں میں شمار کیا جاتا تھا۔صغرستی ہی سے اس کا 7