ابن رشد

by Other Authors

Page 6 of 161

ابن رشد — Page 6

نے خاندانی علوم (فقہ وحدیث ) کی تحصیل کے بعد طب فلکیات، ریاضی، موسیقی علم الحیوانات اور فلسفہ کی اعلیٰ تعلیم کی طرف توجہ کی اور فطری استعداد کے سبب بغیر کسی مزید کوشش کے طب اور فلسفے میں مہارت تامہ حاصل کی۔اس وقت اسلامی اسپین میں فلسفہ و منطق کی تعلیم کا رواج ہو چکا تھا اور علما وعوام کی مخالفت کے باوجود طالب علم یہ علوم بڑے شوق سے حاصل کرتے تھے۔بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ فلسفہ ( علوم الحکمیہ ) کی تعلیم ابن رشد نے اندلس کے سب سے عظیم فلسفی ابو بکر ابن باجہ (1138-1100 ء ) سے حاصل کی تھی۔علامہ ابن ابی اصیبعہ نے طبقات الاطباء میں لکھا ہے کہ نے ابن باجہ کی شاگردی کی تھی۔مگر یورپ کے مورخین اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ کی پیدائش 1126ء میں ہوئی جبکہ ابن باجہ کی وفات 1138 ء میں ہوئی۔اس امر کے پیش نظر کی عمر ابن باجہ کی رحلت کے وقت بارہ برس تھی جو کہ فلسفہ جیسے دقیق علم کے حصول کے لئے موزوں عمر نہیں ہے۔محمد لطفی جمعہ تاریخ فلاسفة الاسلام میں لکھتے ہیں : یہ یقینی ہے کہ ابن باجہ کے گھر آیا جایا کر تا تھا ، اس لئے اگر اس نے بچے سے گفتگو کر لی ہو یا اس سے کوئی سبق یا قصیدہ سن لیا ہو تو یہ کوئی دور کی بات نہیں ہے۔یہ واقعہ یا اس قسم کے جو واقعات بار بار پیش آئے وہ شاگردی کی طرف منسوب ہو جانے کا سبب ہو گئے " (4) اس زمانے میں مسلمان علوم کو دو حصوں میں تقسیم کرتے تھے: علوم نقلیہ (اسلامیات تفسیر، حدیث ) اور علوم عقلیہ ( یونانی علوم، فلسفه دریاضی وغیرہ)۔جو شخص علوم نقلیہ کا ماہر ہوتا تھا وہ عالم کہلاتا تھا اور علوم عقلیہ کے ماہر کو حکیم کہتے تھے۔اس لئے حکمۃ سے مراد فلسفہ ہے یا پھر یونانی علوم کا علم۔متقدمین حکماے اسلام فلسفے کو حکمت اور حکمت کو خیر کثیر گردانتے تھے جیسا کہ قرآن حکیم میں ارشاد ہوا ہے " و من بوتى الحكمة فقد اوتي خيرا كثيراً "۔اس لئے جو قوم حکمت کی قدر نہیں کرتی وہ کفران نعمت کا ارتکاب کرتی ہے جس کا نتیجہ نا کامی ہوتا ہے۔حکمت اپنی حقیقت میں نور معرفت ہے جو انسان کی شخصیت میں حسن و کمال پیدا کرتی ہے۔قرآن کا ایک نام حکیم اسی لئے ہے کیونکہ یہ علم و حکمت کے انمول خزانوں سے معمور ہے۔یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اسلام سے قبل دینی علما کا یہ عقیدہ تھا کہ دین کے معاملے میں عقل سے کام لینا گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔روایت جو کہے دی بچ ہے چاہے عقل و حکمت کی رو سے وہ گمراہ کن ہی کیوں نہ ہو۔اس طرح جب عقل کی اہمیت کا احساس جا تا رہا تو علوم زوال پذیر ہو گئے۔یہ قرآن حکیم ہی تھا جس نے علم و حکمت کی روشنی میں دین ودنیا کے ہر شعبے میں عقل و حکمت سے کام لینے کی تلقین کی۔دینی علوم کے علاوہ نے ریاضی، علم فلکیات ، منطق ، طبیعیات، طب کی تعلیم بھی قرطبہ کے مقبول اساتذہ سے حاصل کی مگر ان کے اسماء گرامی معلوم نہیں۔عجیب بات ہے کہ نے اپنے اساتذہ میں سے کسی ایک کا بھی ذکر اپنی کتابوں میں نہیں کیا۔قرطبہ اس وقت علوم حکمیہ (عقلیہ ) کا مرکز تھا جبکہ اشبیلیہ ادبیات کے لئے 6