ابن رشد

by Other Authors

Page 4 of 161

ابن رشد — Page 4

محمد بن رشد کو شاہی دربار میں خاص رتبہ حاصل تھا۔الدیباج الذہب میں لکھا ہے: مقدماً عند امیر من المسلمين - عظيم المنزلة معتمداً في العظائم ايام حياته واليه كانت الرحلة للتفقه اقطار الاندلس مدة حياته۔"۔و بادشاہ کے نزدیک نہایت معزز تھے اور امور سلطنت میں ساری زندگی ان پر اعتماد کیا جاتا تھا۔لوگ فقہ کا علم حاصل کرنے کے لئے اندلس کے اطراف و جوانب سے عمر بھر ان کی رحلت تک ان کے پاس آتے تھے۔" دادا اور پوتے میں پانچ باتیں مشترک تھیں : دونوں کا نام مجھ تھا۔جس سال دادا اللہ کو پیارے ہوئے اس سال پوتے کی پیدائش ہوئی۔دونوں قاضی القضاۃ کے عہدے پر متمکن رہے۔دادا نے بھی کتب تصنیف کیں اور پوتے نے بھی۔دادا کے بیٹے کا نام احمد تھا اور پوتے کے فرزند کا نام بھی احمد تھا۔کی تعلیم اور اساتذہ اندلس میں اس دور میں بچوں کی ابتدائی تعلیم کا طریقہ کار یہ تھا کہ بچے کو پہلے قرآن مجید حفظ کراتے تھے۔اس کے بعد اس کو صرف و نحو اور ادب و انشاء کی تعلیم دی جاتی تھی۔چونکہ اندلس میں مالکی مذہب رائج تھا اس لئے بچوں کو موطا امام مالک بھی حفظ کرائی جاتی تھی۔جب طالب علم فنون ادب کی تعلیم مکمل کر لیتا تو اس کے بعد جس فن میں اس کا فطری میلان ہوتا وہ اسے حاصل کرتا تھا۔کی ابتدائی تعلیم ملک میں رواج شدہ نصاب تعلیم کے مطابق شروع کی گئی۔انہوں نے اپنے والد ماجد ابوالقاسم سے قرآن مجید اور حدیث کی کتاب موطا کو حفظ کرنا شروع کیا۔اس سے فراغت پانے کے بعد انہوں نے عربی زبان اور علوم ادبیہ کی طرف توجہ کی اور اس میں اتنا کمال حاصل کیا کہ بچپن میں ہی شعر گوئی کرنے لگے۔تاہم بچپن کے زمانے میں لکھے گئے ان اشعار کو جو اخلاقی غزلیات پر مشتمل تھے بعد میں نذرآتش کر دیا۔مؤرخ ابن الا بار نے لکھا ہے کہ ان کو تنبی اور حبیب کے اشعار نوک زبان تھے اور اکثر محفلوں میں دو ان اشعار کو برجستہ موقعہ محل کے مطابق پڑھ کر داد تحسین حاصل کرتے تھے۔ان کو دور جاہلیت کے شعراء کے کلام پر بھی عبور حاصل تھا چنانچہ ان کی تصنیف کتاب الشعر میں امراؤ القیس ، اشی، ابو تمام متنتی اور اصفہانی ( الاغانی) کے اشعار بکثرت پائے جاتے ہیں۔ابتدائی تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے اعلی تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔اس زمانے کے اطباء اور فلاسفہ کی سوانح کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ طب وفلسفہ میں مہارت رکھنے کے علاوہ محدث اور فقیہ بھی ہوتے تھے۔چنانچہ کے دوست اور قرون وسطی کے عظیم طبیب ابو مروان ابن زہر کو حدیث وفقہ پر عبور حاصل تھا۔اس 4