ابن رشد

by Other Authors

Page 5 of 161

ابن رشد — Page 5

وقت فقہ اور حدیث بنیادی تعلیم کا لازمی حصہ خیال کئے جاتے تھے۔چنانچہ فقہ اور حدیث کی تعلیم انہوں نے اپنے وقت کے نامور محدثین حافظ ابن بشکوال ، ابومروان عبد الملک ، ابوبکر بن سمحون ، ابو جعفر بن عبد العزیز ، ابو عبد الله الماذری اور حافظ ابومحمد بن رزق سے حاصل کی۔ابن الآبار کا کہنا ہے کہ کو درایہ ( سائنس آف لا) میں زیادہ دلچسپی تھی بجائے روایہ کے (سائنس آف ٹریڈیشن )۔ابو عبد الله ماذری (1139ء ) طب و حساب میں مہارت رکھتے تھے۔فقہ حدیث اور تحقیق فقہ میں ان کو مجتہد کا رتبہ حاصل تھا۔انہوں نے شرح صحیح مسلم لکھی جس پر بعد میں آنے والے محدثین جیسے ابن حجر نے اپنی تحقیقات کا سنگ بنیا درکھا۔ابو مروان عبد الملک بن مسرہ (1155ء) حدیث وفقہ کے علاوہ فن رجال میں ماہر تسلیم کئے جاتے تھے۔حافظ ابوالقاسم ابن بشکوال (1182-1101ء) قرطبہ کے رہنے والے مگر اشبیلیہ میں قاضی کے عہدے پر مامور تھے۔دو اندلس کے ممتاز محدث ، ناقد حدیث، اور مورخ تھے۔انہوں نے پچاس کتا ہیں ورثہ میں چھوڑیں جیسے رواء الموطلا موطا امام مالک کے قاری اور کتاب الصیله فی اخبار آئمة الاندلس جس میں 1139 ء تک کے اندلس کے 1541 عالموں، ادیبوں اور دانشوروں کا ذکر کیا گیا ہے۔کتاب مصنف کی گل افشانی گفتار کا شاہکار ہے۔اس کے تعارف میں اس نے لکھا کہ یہ کتاب اس نے اپنے مداحوں کی فرمائش پر ابن الفرضی کی کتاب تاریخ علماء اندلس کے عملہ کے طور پر لکھی تھی اسی لئے اس کتاب کا انداز ( رسم وطریقہ ) الفرضی کی تاریخ علما اندلس جیسا ہے۔دونوں کتابوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا۔متعدد عالموں نے ذیل کتاب الصیلہ کے طور پر کتابیں رقم کیں۔اشبیلیہ میں وہ اور ابو بکر ابن العربی کا تنقیح ساز تھا۔اندلس کی ثقافتی تاریخ پر اسے سند مانا جاتا تھا جس کے پیش نظر اس کو ملک کے علمی حلقوں میں بڑی وقعت حاصل تھی۔(2)۔کتاب الصیلہ میڈرڈ سے دو جلدوں میں 1883ء میں شائع ہوئی تھی۔نے اس کے علاوہ اصول اور علم کلام کی تعلیم بھی حاصل کی لیکن ان علوم میں ان کے اساتذہ کے اسماء نا معلوم ہیں۔طب اور یونانی علوم ( منطق، فلسفہ) کی تعلیم کے لئے انہوں نے ابو مردان بن جریول اور ابو جعفر ابن ہارون التر جالی (Trujillo) سے اکتساب کیا۔التر جالی کا تعلق اشبیلیہ کے معزز خاندان سے تھا اور شہر کے سر کردہ افراد میں اس کا شمار ہوتا تھا۔بطور فلسفی وہ حکمت کے علوم ( فلسفہ، منطق) میں کمال رکھتا تھا اور حکماے متقدمین ( ارسطو، افلاطون ) کی کتابوں کا ماہر تھا۔بطور طبیب اس کو معالجہ میں کمال حاصل تھا۔آنکھوں کے علاج ( صنعت الكحل ) میں خصوصی مہارت تھی۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک بچے کی آنکھ کے ڈھیلے میں لکڑی کا چھوٹا ٹکڑا گھس گیا التر جالی نے اللہ کی نصرت سے اس کا ایسا شافی علاج کیا کہ بینائی بحال ہوگئی۔الموحد خلیفہ ابو یعقوب یوسف کے دربار میں اسے خاص مقام حاصل تھا۔فقہ کے معاملات میں وہ ابو بکر ابن عربی کا شاگر د تھا۔(3) 5