ابن رشد — Page 113
اس کی تصدیقات یقینی نہیں ہو سکتیں۔وہ چونکہ معقولات ( علوم حکمت ، فلسفہ، منطق ) کو غیر معتبر سمجھتے تھے اس لئے اسے فلسفیوں کی انہوں نے مخالفت کی جو علم و معرفت کو محض عقل کا مرہون منت خیال کرتے تھے۔ان کے نزدیک حقیقت کے عرفان کے لئے عقل کے بجائے صوفیانہ مجاہدے ( religious experience) سے کام لینا چاہئے جسے دور جدید میں فلاسفہ وجدان ( intuition) کہتے ہیں۔امام غزالی اگر چہ عقل کی قطعیت کے قائل نہیں تھے لیکن وہ عقل کو برا بھی نہیں سمجھتے تھے اور نہ اس کی افادیت سے انکار کرتے تھے۔امام غزالی نے فلسفیانہ اصطلاحات کثرت کے ساتھ مذہبی ذخیرہ میں داخل کیں۔انہوں نے دین کی حمایت میں فلسفے کے طلسم کو توڑنے کے لئے اسے عام فہم بنایا۔انہوں نے ثابت کیا کہ فلسفہ محض غور وفکر کا نام ہے اور فلسفیانہ افکار ہر کسی کی سمجھ میں نہیں آسکتے۔نیز صرف فلسفہ ہی حقیقت مطلقہ تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔انہوں نے فرمایا کہ اگر چہ یہ درست ہے کہ حقیقت کا عرفان صرف عقل ہی کے ذریعہ ہوتا ہے لیکن عام عقل سے نہیں، بلکہ اس کے لئے عقل سلیم کی ضرورت ہوتی ہے۔عقل میں حسن ونور پیدا کرنے کے لئے تزکیہ نفس کی ضرورت ہوتی ہے جس کا صوفیا نہ نام مجاہدہ نفس ہے۔(19) تصافة الفلاسفة میں انہوں نے یونانی فلاسفہ اور ان کے مسلمان شارحین ( الفارابی ، ابن سینا) کے نظریات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔اس کے برعکس نے اپنی کتاب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ غزالی نے جن فلسفیانہ خیالات کی تردید کی ہے وہ یونانی نہیں تھے۔بلکہ ان میں بعد کے فلسفہ کے نظریات کا امتزاج ہے۔نے کہا کہ غزالی کا طریقہ غیر منطقی ہے اور وہ ایک خاص مذہبی مسلک کے نقطہ نظر سے بحث کرتے ہیں اس لئے ان کا محاکمہ غیر معتبر اور غلط ہے۔انہوں نے اپنے زمانے کے سلاطین، علما اور رعایا کی خوشنودی کے لئے ایسا کیا۔بقول غزالی بظاہر فلسفے کے مخالف تھے لیکن در حقیقت وہ فلسفے کے حامی تھے۔انہوں نے فلسفے کی بہت خدمت کی ، ایجابی اور سلبی ہر لحاظ سے۔ایجابی لحاظ سے یوں کہ انہوں نے فلسفیانہ فکر کو گراں سے بچانے اور صحیح خطوط پر چلانے کی کوشش کی پہلی اس لحاظ سے کہ انہوں نے فلسفہ کے باطل نظریات کی تردید کی۔تهافت الفلاسفة فلاسفہ کے جن 20 دعووں کی امام غزالی نے تهافت الفلاسفة میں تردید کی ہے وہ درج ذیل ہیں: 1۔اس دعوی کا ابطال کہ عالم ازلی ہے: غزالی نے فلاسفہ کے اس نظریے کی تردید کی ہے کہ عالم یا کائنات قدیم سے ہے۔کا کہتا ہے کہ غزالی نے اس نظریہ کو سمجھا نہیں، اگر سمجھا تو اسے غلط طور پر پیش کیا اور غلط 113