ابن رشد

by Other Authors

Page 112 of 161

ابن رشد — Page 112

سے تیار کی تھی۔ری پبلک کا انتخاب اس نے اس لئے کیا کیونکہ ارسطو کی کتاب سیاسیۃ (Politics) اس کے ہاتھ نہ لگ سکی (افلاطون کی جمہوریہ صفحہ 4) کتاب کے بنظر غائر مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے یونانی فلسفہ اور مذہبی قوانین میں تطبیق (synthesis) کی کامیاب کوشش کی اور یہی چیز اس کی فلسفیانہ زندگی کا طرہ امتیاز ہے۔اس نے افلاطون کے سیاسی فلسفہ کو اپنے فلسفہ کے طور پر اسلامی ریاست پر منطبق کیا۔اس کے نزدیک اسلامی شریعت کے قوانین افلاطون کے آئیڈیل، فلسفی بادشاہ کے قوانین (Nomos) سے افضل ہیں۔اسلامی شریعت کی تعلیمات اتنی اعلیٰ اور پیچیدہ ہیں کہ انسانی فہم سے باہر ہیں۔ان پر ایمان لانا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کیونکہ اس میں الہامی صداقتیں موجود ہیں۔اس کے نزدیک اسلامی طرز حکومت جس کا آئیڈیل دستور اسلامی شریعت ہے افلاطون کی جمہوریت سے ہزار درجہ بہتر ہے۔اس نے افلاطون کے نظریہ سے اتفاق کیا کہ آئیڈیل اسٹیٹ ٹرانسفارم ہو کر چار ریاستوں میں بدل جاتی ہے (ٹیموکریسی، آلی گار کی ، ڈیموکریسی ، ٹیرانی)۔یہی چیز حضرت معاویہ کے دور میں ہوئی جب خلافت راشدہ آئیڈیل اسٹیٹ سے تبدیل ہو کر شخصی حکومت ( ٹیمو کریسی) بن گئی۔اس کی زندگی میں یہی چیز مرابطون اور موحدون کے دور حکومت میں ہوئی جو شرعی حکومتیں تھیں مگر بعد میں بدل گئیں۔ایک مخلص زاہد مسلمان کی حیثیت سے اس نے کہا کہ سید الانبیا ع خاتم النبین تھے جنہوں نے اسلامی شریعت کو ہر زمانے اور دور کے لئے نافذ کیا۔(48) اور امام غزالی حجتہ الاسلام امام غزالی (1111-1058ء) عظیم المرتبت مفکر ، صوفی حکیم اور معلم اخلاقیات تھے۔شہرہ آفاق کتاب تهافة الفلاسفة لکھنے کے بعد وہ شہرت کے پروں پر از نے لگے۔نے اس کے جواب میں تهافة التهافة لکھ کر علمی حلقوں میں تہلکہ مچایا۔کے نزدیک الغزائی معقلیت پسند فلسفی تھے مگر انہوں نے شہرت حاصل کرنے کے لئے تصوف کا لبادہ زیب تن کیا اور رہبانیت اختیار کی۔ان کا دماغ فلسفی کا اور دل صوفی کا تھا اور دل ودماغ میں یہ کھینچا تانی عمر بھر جاری رہی۔ان کی فکری زندگی میں سب سے نمایاں چیز جو نظر آتی ہے وہ ان کی تشکیک پسندی (scepticism) ہے۔یہ کوئی بری چیز نہیں بلکہ ہر عبقری محقق کی پہچان ہوتی ہے کہ اس میں بیک وقت دور، محانات پائے جاتے ہیں یعنی سلبی اور ایجابی سلبی رجحان تشکیک پر آمادہ کرتا ہے اور ایجابی ایمان کا مظہر ہوتا ہے۔امام غزالی بظاہر فلسفے کے مخالف تھے لیکن ان کے نظام فکر میں جو مسئلہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے وہ عقلیت ہے۔انہیں عقل پر سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ عقل تنہا حقیقت کا ادراک نہیں کر سکتی اس لئے معرفت کے معاملات میں 112