ابن رشد — Page 114
مفروضات قائم کر کے اسے جھٹلایا۔-2 ابدیت عالم کا ابطال: دنیا ہمیشہ سے چلی آرہی ہے اور ہمیشہ چلتی رہے گی ؟ -3 خدا اس عالم کا صانع نہیں ہو سکتا اس سلسلے میں حکما کی دھوکہ دہی : فاعل وصانع میں ارادہ و اختیار کی صفات کا ہونا ناگزیر ہے۔خدا واحد ہے اور واحد سے کثرت کا صدور ناممکن ہے، اس لئے اس دنیا کی بوقلمونی کی کوئی توجیہ نہیں ہو سکتی۔-4 خدا کا وجود ثابت کرنے میں حکما عاجز ہیں: فلاسفہ اللہ تعالیٰ کا وجود ثابت نہیں کر سکتے۔فلاسفہ عالم کو قدیم وازلی بھی مانتے ہیں اور اس کے ساتھ اس بات کے قائل ہیں کہ عالم کے قدیم ہونے کے باوجود اس کی علت ہونی چاہئے۔5- فلاسفہ خدا کی توحید ثابت نہیں کر سکتے : فلاسفہ یہ ثابت کرنے سے عاجز ہیں کہ ایک سے زائد واجب الوجود فرض نہیں کئے جاسکتے۔-6۔کیا ذات وصفات کی روئی کا مسئلہ کثرت کا سبب ہے؟ یعنی فلاسفہ کے اس دعوے کا ابطال کہ خدا میں صفات نہیں پائی جاتیں ہمثلاً خدا تعالی قدرت علم اور ارادہ کی صفات سے معرا ہے۔7 تعدد و کثرت کا دوسرا سبب: فلاسفہ کا یہ دعوئی غلط ہے کہ خدا کے یہاں جنس و فصل نہیں۔بالفاظ دیگر مبدء اول ( First Cause ) کو جنس و فصل کے ذریعے بیان نہیں کیا جاسکتا۔8 - فلاسفہ کا یہ دعوئی ثابت نہیں ہو سکتا کہ خدا کی ذات بسیط محض بلا ماہیت ہے۔9۔فلاسفہ خدا کی جسمیت کا انکار نہیں کر سکتے ؟ جسم قدیم اور جسم حادث میں فرق؟ فلاسفہ یہ ثابت کرنے سے معذور ہیں کہ خدا کا جسم نہیں۔10 - فلاسفہ اثبات صانع سے قاصر ہیں۔علت العلل کے اثبات سے صانع کا وجود ثابت نہیں ہوتا۔11- فلاسفہ یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ خدا تمام کائنات کے بارے میں کلی اور اک رکھتا ہے ، خدا اپنے سوا کسی اور کو جانتا ہے ؟ 12 - فلاسفہ مبدء اول سے متعلق اس حقیقت کا اثبات نہیں کر سکتے کہ اسے اور اک ذات حاصل ہے، فلاسفہ یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ خدا اپنی ذات کا علم رکھتا ہے۔13۔فلاسفہ کے اس دعوی کی تردید کہ خدا کیات کا علم تو رکھتا ہے گر جزئیات کا نہیں۔114