ابن رشد — Page 96
(3) ابن حزم (1064ء ) عروس البلاد قرطبہ میں پیدا ہوا ، جہاں اس کے والد وزیر مملکت کے عہدہ پر فائز تھے۔خلیفہ عبد الرحمن خامس نے ابن حزم کو 1024ء میں اپنا وزیر مقرر کیا لیکن چند ماہ بعد خلیفہ کے قتل ہونے پر ابن حزم نے سیاست سے کنارہ کشی کر کے تالیف و ترجمہ کا کام شروع کر دیا۔اس کی تصانیف کی تعداد چار سو کے قریب ہے۔ان میں طوق الحمامه (فلسفه محبت پر)، جوامع السياسه ، كتاب الاحکام فی اصول الاحكام الناسخ والمنسوخ ، تواریخ الخلفاء وغیرہ ہیں۔اس نے منطق کے موضوع پر ایک کتاب قلم بند کی جس کا نام التقريب لحد المنطق والمدخل اليہ تھا۔یہ کتاب منطق پر ارسطو کی آٹھ کتابوں کے مجموعے آرگنان (Organon) کا لب لباب تھی اس کتاب میں اس نے فقہ اور لسانیات کی مثالیں وضاحت کے طور پر پیش کی ہیں۔اس نے اپنے ہم عصروں کو فلسفہ اور منطق کی صحیح اہمیت کو نہ جانے پر آٹھ آٹھ آ نسور لائے ہیں۔اس کے نقطہ نظر کے مطابق مذہب اور فلسفہ میں کوئی تنازع و تضاد نہیں ہے۔اس کے نزدیک کسی کی رائے کو غلط یا صحیح ثابت کرنے کا سب سے اچھا طریقہ منطق ہے بلکہ وہ اپنے قاری کو منطق کی تعلیم حاصل کرنے پر آمادہ کرتا ہے تا کہ وہ سچائی پر پڑے دبیز پردوں کو بنا کر اصلی حقیقت کو جان سکے۔جب اس نے مراتب العلوم تصنیف کی تو اس میں بھی انہی خیالات کا اعادہ کیا۔وہ کہتا ہے کہ جو لوگ علم کی اہمیت و افادیت کو جانتے ہیں ان کو دوسروں پر منطق کی اہمیت واضح کرنی چاہئے۔وہ پورے زور سے ان بودے الزامات کی تردید کرتا ہے کہ علوم قدیمہ (منطق و فلسفہ ) کی کتابوں کے مطالعہ سے انسان ملحد و بے دین ہو جاتا ہے۔اس کے نزدیک اسلام تمام دوسرے مذاہب سے اعلیٰ وارفع دین ہے۔اس کا دماغ حد درجہ منطقی تھا۔اس کی کتابوں اور اس کی زندگی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام کا نہایت جلیل القدر مصنف ، عالم بلکہ فی الواقعہ سلطان القلم تھا۔اس کی زندگی پر اپنینی میں قابل ذکر کتاب کا نام، اے بن حیزم ڈی کارڈووا (Abenhazam de Cordova by Asin Palacios ہے۔اس نے اپنی مشہور زمانہ کتاب الفصل في الملل و النحل میں خدا اور اس کی صفات پر فلسفہ اور مذہب کے نظریات کا موازنہ پیش کیا ہے۔اس کتاب میں اس نے تقابلی مطالعہ ادیان بھی پیش کیا جس کی بناء پر یہ کتاب اس موضوع پر دنیا کی پہلی کتاب شمار کی جاتی ہے۔بقول سرٹامس آرنلڈ ابن حزم پہلا متفق تھا جس نے نئے اور پرانے عہد نامے کا تنقیدی مطالعہ کیا۔(First systematic critical study of Old and New Testament) كتاب الاخلاق میں اس نے نیک زندگی گزارنے کے طریقے بیان کئے ہیں۔مابعد الطبیعات پر زکریا رازی کی کتاب کو اس نے ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ مشرق کے اس فلسفی پر زرتشتی مذہب کے نظریات کا بہت اثر تھا۔ابن حزم عصمت انبیاء کا قائل تھا۔وہ نبوت کے معاملے میں مردوزن کی تفریق کا قائل نہیں تھا اور کہتا تھا کہ 96